کوئٹہ: علیم پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کا سبب کیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی کے بعد کوئٹہ میں بھی ایک بڑے تجارتی پلازے میں آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ کوئٹہ کے مصروف تجارتی علاقے پرنس روڈ اور لیاقت بازار سے ملحقہ نجی علیم پلازہ میں آج علی الصبح خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں پلازے میں قائم متعدد دکانیں، دفاتر اور گودام جل کر خاکستر ہو گئے۔
خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مالی نقصان کروڑوں روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
آگ لگنے کی وجہ اور ابتدائی صورتحالریسکیو حکام کے مطابق آگ بظاہر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے میں پھیل گئی۔ آگ صبح ساڑھے 4 سے 5 بجے کے درمیان بھڑکی، جس کے بعد شعلوں اور دھوئیں کے کالے بادلوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: پرنس روڈ پر حلیم کمپلیکس میں خوفناک آتشزدگی، سینکڑوں دکانیں متاثر
اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، پی ڈی ایم اے، ایف سی، پولیس اور نجی واٹر ٹینکرز فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
آگ بجھانے کے عمل کی نگرانی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈی آئی جی کوئٹہ اور ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد اورنگزیب نے خود موقع پر موجود رہ کر کی۔
کئی گھنٹوں بعد آگ پر قابوضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل چکی تھی، تاہم کئی گھنٹوں کی مسلسل اور مشترکہ کوششوں کے بعد آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا۔
ڈی سی کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، واسا اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ بروقت موقع پر پہنچ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں آگ بجھانے کے ابتدائی آلات موجود نہ ہونے کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا، تاہم ٹیمیں پلازے کے اندر داخل ہوئیں اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مالی نقصانات کا حتمی تخمینہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد اورنگزیب کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 10 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 20 کے قریب فائر باوزرز اور 70 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پلازے کے اندر گیس سلنڈرز بھی موجود تھے جس کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی، تاہم کسی اہلکار کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹریوں اور دیگر حساس سامان رکھنے والی دکانوں میں فائر فائٹنگ آلات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
تاجروں کے خدشات اور شکایاتانجمن تاجران کے صدر رحیم آغا نے کہا کہ عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کے باعث ریسکیو میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمارتوں کے باہر نصب کیسکو کے میٹرز اور بجلی کی کھلی تاریں بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، جن پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
کروڑوں کا نقصان، تاجروں کا کربپلازے میں کمپیوٹر، موبائل فون، جوتوں، گارمنٹس کی دکانیں، دفاتر اور گودام قائم تھے، جن میں موجود قیمتی سامان مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔
متاثرہ تاجروں کے مطابق انہوں نے عید کی تیاری کے لیے لاکھوں اور کروڑوں روپے کا سامان پہلے ہی منگوا رکھا تھا جو آگ کی نذر ہو گیا، جس سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے جبکہ عمارت کو محفوظ بنانے اور نقصانات کے تخمینے کے لیے مزید سروے کیا جائے گا۔ مسلسل آتشزدگی کے واقعات نے ایک بار پھر تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی انتظامات کی کمی کو نمایاں کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے کے مطابق آگ پلازے میں انہوں نے کے باعث کے لیے کے بعد
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔