Islam Times:
2026-07-24@01:31:14 GMT

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے مقررین کا خطاب

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

اس عظیم الشان اجتماع میں پورے گلگت بلتستان سے ہزاروں مومنین نے شرکت کی، جبکہ خصوصی طور پر کثیر تعداد میں علمائے کرام، سیاسی و سماجی اکابرین بھی شریک ہوئے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

برسی شہید ضیاء الدین رضوی سے خطاب کرنے والے مقررین

اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضوی گلگت میں شہید راہ حق شہید راہ ولایت، داعی اتحاد بین المسلمین سید ضیاء الدین رضوی اور اْن کے با وفا جانثاران شہید تنویر علی، شہید عباس علی اور شہید حسین اکبر کی 21 ویں سالانہ برسی کے سلسلے میں ایک عظیم الشان مرکزی احتجاجی و تعزیتی اجتماع منعقد ہوا۔ اس عظیم الشان اجتماع میں پورے گلگت بلتستان سے ہزاروں مومنین نے شرکت کی، جبکہ خصوصی طور پر کثیر تعداد میں علمائے کرام، سیاسی و سماجی اکابرین بھی شریک ہوئے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت