پاکستان کی معیشت میں نمایاں استحکام آ چکا ہے، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں استحکام آچکا ہے، مہنگائی، شرح سود اور مالی خسارہ بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔
ڈیوس میں بلوم برگ کو انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی اب کم ہو چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کر لیا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نےپاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہترکی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان 4 سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے، آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کےانتخاب کیلئے تجویزجاری کی جائےگی، حکومت ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کرنے کے آپشنز پرغورکررہی ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ متعارف کرانے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جون تک زرمبادلہ ذخائرتین ماہ کی درآمدات کے برابر ہونے کی توقع ہے، روپےپرفوری دباؤ نہیں ہے،ترسیلات زراورسروسز کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، قومی ایئرلائن کے بعد مزید اداروں کی نجکاری پر غور جاری ہے، حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا