شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی تیراہ کے متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے وادی تیراہ میں رہائشیوں کی عارضی نقل مکانی کے پیشِ نظر فاؤنڈیشن کی ریلیف سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اس مشکل وقت میں متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ ایک مضبوط پاکستان کے قیام میں کردار ادا کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کی عمران ریاض پر کڑی تنقید
شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ تیراہ کے لوگ اس وقت خطرناک حالات کی وجہ سے اپنے گھروں سے منتقل ہو رہے ہیں، اور یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی مدد کریں اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے خوراک، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وادی تیراہ میں موجود دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی کر رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر ریلیف سرگرمیاں خصوصی طور پر ترتیب دی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امدادی سرگرمیاں شاہد آفریدی شاہد آفریدی فاؤنڈیشن وادی تیراہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امدادی سرگرمیاں شاہد ا فریدی شاہد ا فریدی فاؤنڈیشن وادی تیراہ شاہد آفریدی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔