بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان کی تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت ،عوامی سلامتی داؤ پر
گلستان جوہر کے بلاک 12میں، کئی منزلہ عمارتیں ہنگامی راستوں کے بغیر تعمیر

ضلع شرقی کا پرامن رہائشی علاقہ گلستان جوہر میں غیر قانونی،بے قاعدہ اور بلڈنگ قوانین سے متصادم اونچی عمارتوں کے گھناؤنے دھندے کی نذر ہو چکا ہے ۔ مقامی شہریوں، سماجی کارکنوں اور ماہرینِ شہری منصوبہ بندی کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں منظور شدہ نقشہ جات، تعمیراتی ضوابط اور حفاظتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔گلستان جوہر کے مرکزی علاقوں، بالخصوص بلاک 12میں، کئی منزلہ عمارتیں بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے تیزی سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ان غیر قانونی تعمیرات میں اوپن اسپیس، پارکنگ، اور سب سے بڑھ کر ہنگامی صورت حال میں ہنگامی اخراج کا راستہ جیسی بنیادی اور زندگی بچانے والی سہولیات کا مکمل فقدان ہے ۔ یہ سنگین خلاف ورزیاں کسی بھی آتشزدگی یا دیگر ایمرجنسیز کے دوران گل پلازہ جیسے المناک واقعات کو دہرانے کا باعث بن سکتی ہیں،جہاں گزشتہ دنوں ہنگامی اخراج کے راستوں کی غیر موجودگی، فائر فائٹنگ سسٹم کی کمی اور دیگر بلڈنگ کوڈ خلاف ورزیوں کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا تھا۔”ہم روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے موت کی بلند ہوتی دیواریں دیکھ رہے ہیں”،گلستان جوہر بلاک 12 کے ایک رہائشی، آصف رضا نے کہا۔ "یہ عمارتیں ایمرجنسی میں نکلنے کے لیے محفوظ ہنگامی راستے کے بغیر بن رہی ہیں۔کیا ہمیں ایک اور آگ کے حادثے کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ حکام کو ہوش آئے ؟”شکایات کے مطابق، اورنگزیب علی خان کو بار بار ان غیر قانونی سرگرمیوں، خصوصاً ہنگامی اخراج کے راستوں کی تعمیر نہ ہونے کی اطلاع دی گئی، مگر انہوں نے نہ تو تعمیرات رکوائیں اور نہ ہی مقدمات درج کروائے ۔ بلکہ، حاصل معلومات کے مطابق، ان غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھنے کے لیے اُنہی کی سرپرستی حاصل ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی ٹھیکیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "جب بھی ہم نے شکایت کی، یا تو ایس بی سی اے کی ٹیم آتی ہے ، نوٹس دیتی ہے ، اور پھر سب خاموشی۔ پیسے کا لین دین ہوتا ہے اور عمارت ایک منزل اور اونچی ہو جاتی ہے ۔ ہنگامی اخراج کے راستے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سب جانتے ہیں کہ اورنگزیب صاحب کو ‘حفاظت’حاصل ہے ۔”اورنگزیب علی خان کا یہ طرز عمل نیا نہیں۔ان کی ناظم آباد میں تعیناتی کے پانچ سال کے دوران بھی وہ اسی طرح کے تعمیراتی اسکینڈلز میں ملوث رہے ۔ ناظم آباد کے مختلف علاقوں میں ان کے دور میں کئی غیر معیاری اور ‘دندناتی’ عمارتیں تعمیر ہوئیں، جو آج بھی وہاں کے رہائشیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان کے نام پر ہمیشہ تعمیراتی قوانین کی پامالی اور مافیا کو تحفظ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں، مگر ان کے خلاف کبھی سنجیدہ کارروائی نظر نہیں آئی۔شہری منصوبہ بندی کے ماہر، ڈاکٹر عبدالقدوس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "گل پلازہ سانحہ ہمارے لیے ایک سبق تھا جو ہم نے پڑھا ہی نہیں۔ ہنگامی اخراج کے راستے ، فائر ہائڈرنٹس اور محفوظ فرار کے راستے بلڈنگ قوانین کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان کی خلاف ورزی محض انتظامی غلطی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ اگر ایس بی سی اے کے افسر ہی ان خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالیں گے ، تو پھر عوام کا کونسا ادارہ اس نظام کو درست کرے گا؟”گلستان جوہر کے باشعور شہری اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت اور ایس بی سی اے کے اعلیٰ حکام فوری طور پراورنگزیب علی خان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے فوری معطل کریں۔ان کی تمام مشکوک سرگرمیوں اور اثاثوں کی شفاف تحقیقات کریں۔ گلستان جوہر (خاص طور پر بلاک 12) میں جاری پلاٹ نمبر Sb33 , 36+37 سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات، جن میں ہنگامی اخراج کے راستوں کی سنگین خلاف ورزی شامل ہے ، کو فوری طور پر روکیں اور منہدم کریں۔ اس پورے گٹھ جوڑ میں ملوث تعمیراتی مافیا کے خلاف بھی سخت قانونی اقدامات اٹھائیں۔یہ معاملہ صرف ایک علاقے کی حد تک نہیں، بلکہ پورے شہر میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے ایک بڑے اداراتیـمافیائی گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ ہے ، جس کا قلع قمع وقت کی اہم ضرورت ہے ، ورنہ گل پلازہ جیسے سانحات کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ عوام کی نظر اب سندھ حکومت پر ہے کہ وہ ان الزامات پر کتنی سنجیدگی سے فوری اور عملی اقدامات کرتی ہے ۔گلستان جوہر، حال ہی میں کئی سنگین حادثات کا سامنا کر چکا ہے جو غیر محفوظ تعمیرات کے خطرات کو واضح کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اورنگزیب علی خان ہنگامی اخراج کے گلستان جوہر

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے