جامعہ کی قیمتی زمینوں پر قبضوں میں وائس چانسلر اور انکا ماتحت عملہ ملوث ہے ،الزام
قبضوں کے دوران خاموشی اختیار کیوں کی؟رجسٹرار ڈاکٹر عمرا ن کا خط مذاق بن گیا

جامعہ کراچی کی بیش قیمت اراضی پر خود یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد سے غیر قانونی قبضے اور پیٹرول پمپ کی تعمیر کے بعد شہری و تعلیمی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ جامعہ کراچی کی قیمتی زمینوں پر مسلسل قبضوں کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ پر سنگین سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ مختلف شہری حلقوں سے گزشتہ دنوں نہایت شدت سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ جامعہ کی انتہائی قیمتی زمینوں پر قبضوں میں وائس چانسلر اور انکا ماتحت عملہ ملوث ہے۔ یہ الزام اس لیے بھی تقویت پا رہا تھا کہ قیمتی زمینوں پر قبضے ہونے تک یونیورسٹی انتظامیہ کا کوئی فعال کر دار سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم گزشتہ دنوں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹر عمران کی جانب سے ایک خط سندھ حکومت کو لکھا گیا ہے جس میں کراچی یونیورسٹی کی زمین پر قبضے کے حوالے سے مدد طلب کی گئی ہے ۔مذکورہ خط میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ25ستمبر 2025ء کو بھی اس معاملے کی نشاندہی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔تاہم یونیورسٹی کے حلقوں میں رجسٹرار کا یہ خط ایک مذاق بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے حلقوں میںیہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ رجسٹرار یا شیخ الجامعہ کی جانب سے 25ستمبر سے قبل اس پر آواز کیوں نہیں اُٹھائی گئی جب یونیورسٹی کی قیمتی اراضی پر دھڑلے سے تعمیرات جاری تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی اس پراسرار خاموشی نے لینڈ مافیا کے کرتا دھرتاؤں کے لیے یہ آسان بنایا کہ وہ بغیر کسی رکاؤٹ کے اپنی تعمیرات مکمل کر سکیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ جامعہ کراچی کی زمین پر ایک پیٹرول پمپ 2024-25 سے تعمیر ہو رہا ہے ، مگر اس پر طویل عرصے تک پراسرار خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ پیٹرول پمپ کی تعمیر کے لیے قواعد کے مطابق متعدد اداروں کی جانب سے این او سی جاری کیے گئے ہیں، واضح طور پر این او سی جاری کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کی جانب سے جامعہ کراچی کے متعلقہ شعبوں بشمول رجسٹرار کے دفتر کو یقینی طور پر خطوط بھی جاری کیے گئے ،مگر تب یونیورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بن کر بیٹھی رہی اور قبضہ مافیا کو تمام اداروں سے متعلقہ این او سی لینے دیا اور اُنہیں سرے سے اپنے اعتراضات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ قبضوں کے دوران میں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، اسٹیٹ آفیسر نورین شارق، کیمپس سیکو رٹی افسر ڈاکٹر سلمان زبیر اور دیگر اداروں کے لوگ منہ پر تالے لگائے بیٹھے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خاموشی کتنی ”بامعنی” اور کتنی قیمت لگانے کے لیے تھی۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹر عمران سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، مگر اُنکی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: یونیورسٹی انتظامیہ قیمتی زمینوں پر یونیورسٹی کی جامعہ کراچی کی جانب سے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک