جامعہ کراچی کی زمین پر قائم پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں جامعہ کراچی کی اراضی پر قبضے اور پیٹرول پمپ کی غیر قانونی تعمیر کی خبروں پر اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا۔
ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نے جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کردیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شرقی کے دفتر سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے باقاعدہ خط بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول پمپ کا این او سی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط اور مختیار کار کی رپورٹ کے ضمن میں منسوخ کیا گیا ہے۔
صدر انجمن اساتذہ نے واضح کیا کہ وہ جامعہ کراچی کی اراضی کے دفاع کے معاملے میں انتظامیہ کی تمام مثبت اور سنجیدہ کوششوں کے ساتھ ہیں۔
این او سی کی منسوخی کے خط میں کہا گیا ہے کہ سیکٹر 22 اسکیم 33 تعلقہ گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ حافظ پیٹرول پمپ کی این او سی جو اس سے قبل جاری ہوئی تھی اب منسوخ کردی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق ڈپٹی کمشنر شرقی نے پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کردیا ہے، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ کو خالی کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اس پیٹرول پمپ کی 33 سالہ لیز کی مدت پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اور اب اس پر قبضہ ختم کرایا جارہا ہے جبکہ محکمہ بورڈز و جامعات نے یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ بھی خالی کرنے کی ہدایت کر کے رپورٹ مانگ لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیٹرول پمپ کا این او سی جامعہ کراچی کی ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔