گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر
یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ گل پلازا واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔سندھ ہائیکورٹ بار کی جانب سے آئین کے تحفظ سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سانحہ 12 مئی کی ابھی تک تحقیقات نہیں ہوئیں، امریکا میں ایک قتل پر پورا ملک اٹھ کھڑا ہوا، یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاست میں عزت کی دیوار نہیں پھلانگنا چاہیے، عزت کا پاس رکھنا چاہیے، ملک من مانیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا معلوم نہیں کہاں خرچ کیا گیا، ملک دن بدن نیچے جا رہا ہے، آئین شہریوں سے کیا گیا سماجی معاہدہ ہے، ہم نئے پاکستان کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں ظلم نہ ہو۔اس موقع پر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا، پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوگی، سیاسی جدوجہد کی ضرورت ہے، آئینی آزادی ختم کی جا رہی ہے، عوام کا اعتماد سسٹم پر نہیں، نہروں کے مسئلے پر بچہ بچہ نکلا اور انہیں شکست ہوئی۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ کراچی کی سڑکیں ایسی ہیں جیسے یہاں بمباری ہوئی ہے، کراچی میں گٹر کے ڈھکن نہیں، بچے گر کر مر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔