وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مسائل، انتخابی تنازعات اور نظام میں موجود خامیوں کا حل صرف پارلیمنٹ اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے مل بیٹھ کر انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ گفتگو کریں۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ملک میں ہونے والے تقریباً ہر الیکشن پر اعتراضات اٹھتے رہے ہیں، چاہے وہ 2018ء ہو، 2013ء ہو یا اس سے قبل کے انتخابات۔ دونوں جانب سے دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا انتخابی نظام ایسا نہیں کہ اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکے۔ اگر ہم صرف ایک ہی الیکشن کے گرد گھومتے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد اس وقت کی اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا، انکوائری اور کمیشن کے مطالبات کیے، مگر پارلیمانی کمیشن کو موثر طریقے سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس وقت بھی جیلوں میں سیاسی کارکن موجود تھے، مگر انہیں سیاسی قیدی تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف منفی بیانیہ بنایا گیا۔

رانا ثنااللہ نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے فیصلے بھی آئے جن پر آج خود سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس وقت بھی عدالتوں کے فیصلوں پر اعتراضات تھے، مگر سیاستدانوں نے نظام کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے۔

لانگ مارچ، دھرنے اور محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعدد مواقع پر اپوزیشن کو بغیر کسی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی، بجٹ کے دن بھی اپوزیشن بنچوں پر جا کر بات چیت کی دعوت دی اور یوم آزادی پر بھی قومی مکالمے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر اتفاق کر کے ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کی کوشش کی، مگر بعد میں پھر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔

اگر واقعی ملک کو آگے بڑھانا ہے تو سیاسی قیادت کو بیٹھ کر انتخابی قوانین، الیکشن کمیشن اور جمہوری نظام کی بہتری پر بات کرنا ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے تمام سیاسی، مالی اور انتظامی مسائل کا حل پارلیمنٹ سے ہی نکلے گا۔ جب سیاستدان سنجیدہ مکالمہ کریں گے تو ہی راستہ نکلے گا۔ ہمیں اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے باہمی گفتگو ناگزیر ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی

رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔  اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل تین جون بروز بدھ شام پانچ بجے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل چلاس میں واقع فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار