سانحہ گل پلازہ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں 2 آئینی درخواستیں دائر، جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں 2 آئینی درخواستیں دائر کردی گئیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک درخواست سلیم مائیکل ایڈووکیٹ، حارث و دیگر کی طرف سے دائر کی گئی ہے جبکہ دوسری درخواست سماجی رہنما بیرسٹر حسن خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
دائر درخواست میں موقف اپنا گیا ہے کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے۔گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو تعین کرکے کارروائی کاحکم دیا جائے کیونکہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضع ثبوت ہے۔
درخواست میں حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا ار متاثرین کو معاوضہ دینے کا بھی حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
گل پلازہ میں باہر نکلنے کے راستوں پر بھی دکانیں بنائے جانے کا انکشاف
کراچی بار کا سانحہ گل پلازہ متاثرین کی مفت قانونی معاونت فراہمی کا اعلان
سانحہ گل پلازہ پر جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی
درخواست گزاروں نے عدالت سے دکانداروں کے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کا بھی حکم دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ اداروں کی غفلت سے معصوم شہریوں کی جانیں گئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے۔
بیرسٹر حسن خان نے درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی، ایس بی سی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ گل پلازہ سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور اس کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
بیرسٹر حسن خان نے درخواست میں استدعا کی کہ کراچی کی تمام عمارتوں کا ریکاڈ چیک کیا جائے جبکہ گل پلازہ کے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس چلنے تک متعلقہ مکموں کے افسران کو معطل کیا جائے۔ بیرسٹر حسن خان نے بتایا کہ تمام فریقین کو لیگل نوٹسز بھی ارسال کردیے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سانحہ گل پلازہ درخواست میں مطالبہ کیا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔