City 42:
2026-07-24@02:00:28 GMT

8 فروری کی کال کسی صورت واپس نہیں لیں گے، شفیع  اللہ جان

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

( سٹی 42) ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت شفیع  اللہ جان کا کہنا ہے  کہ کچھ بھی ہو جائے8 فروری کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی، پی ٹی آئی کے کارکن کسی نتیجے کے بغیر تحریک جاری رکھیں گے ۔ہ  نتائج کچھ بھی ہوں ، ہماری جدوجہد جاری رہے گی، آٹھ فروری سے پہلے  یا اس کے بعد  نئی تاریخ بھی دی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا  کا کہنا ہے کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔

منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے

  اڈیالہ روڈ ماربل فیکٹری ناکے کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے   ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت نے کہا کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی سٹریٹ موومنٹ کے باعث ہمیں کامیابی ملی، محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا ، دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔شفیع اللہ جان نے بتایا کہ وہ سلیکٹ نہیں الیکٹ ہوئے ہیں، آٹھ فروری کوئی ہماری فائنل کال نہیں ہے،جب ہم سمجھیں گے کہ سٹریٹ موومنٹ میں جان پڑ گئی ہے، اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں پھر ہم اپنی حکمت عملی وضع کر کے اعلان کر دیں گے۔  انھوں نے بتایا کہ دیکھ لیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے ملک گیر دوروں کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، سندھ ہو ،کے پی کے ہو  پنجاب ہو سٹریٹ موومنٹ میں عوام شریک ہیں ، 8فروری کی کال کی بات ہے تو وہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کال دے رکھی ہے،ملک گیر پہیہ جام ،شٹر ڈاؤن ہڑتال کی آٹھ فروری کو انہوں نے کال دی ہے ۔

الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال

  ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت نے بتایا کہ ہم نےآٹھ فروری سے متعلق  کوئی شرائط نہیں رکھی،آپ لوگوں نے رانا ثنا اللہ کا بیان تو پڑھا ہوگا کہ 8 فروری کی کال نہیں واپس لی گئی تو پھر 9مئی کے کیس کھولے جائیں گے،ثابت یہ ہوتا ہے کہ 9مئی کے مقدمات انتقامی اور سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مقدمات جعلی ہیں، آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں،کبھی گورنر راج لگانے کی، کبھی مقدمات کی ،نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی، اس کے علاوہ 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی، کسی صورت بھی نہیں لی جائے گی ۔

کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان

 دریں اثنا  پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا  نے ماربل فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے، عدالتیں بے اثر ہو چکی ہیں، میڈیا کا گلا گھونٹا جا چکا ہے، پارلیمنٹ کو بندوق کے زور پر فتح   کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے عدالتی احکامات موجود ہیں، ایک سپاہی عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے،بانی پی ٹی آئی کو ڈیڑھ سے دو ماہ سے تنہائی میں رکھا گیا ہے، ہم پرامن لوگ ہیں، نہ شیشہ توڑا ،نہ گملہ توڑا،  آج بھی سورۂ یٰس کی تلاوت کے ساتھ پرامن دھرنا جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملاقات تک یہاں پرامن طور پر بیٹھے رہیں گے، چینلز پر ہماری آواز روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،بڑی تعداد میں کارکن ناکے پر پہنچ چکے ہیں، محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانا بانی پی ٹی آئی کی ہدایت تھی، بانی پی ٹی آئی جیل سے حکم دیں تو فیصلے نافذ ہو جاتے ہیں۔

پی ایس ایل ؛ سیالکوٹ فرنچائز کے حتمی نام کیلئے 5 نام شارٹ لسٹ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی 42 خیبر پختونخواہ حکومت کال پی ٹی ا ئی خیبر پختونخواہ حکومت کال کال کال کال خیبر پختونخواہ حکومت کال کال خیبر پختونخواہ بانی پی ٹی آئی اپوزیشن لیڈر فروری کی کال ا ٹھ فروری نہیں لی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن