آگ صرف گل پلازہ میں نہیں لگی، پورا کراچی کرب میں مبتلا ہے: فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور وفاقی حکومت کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں حطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ہے، ایم کیو ایم صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ عملی اقدامات بھی نظر آئیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ میں لگی آگ تیسرے درجے کی تھی، مگر اس کے باوجود شہری انتظامیہ بروقت اور مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ واقعے کے بائیس گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے جبکہ جماعت اسلامی کا نمائندہ بھی بیس گھنٹے بعد آیا، اس کے برعکس گورنر سندھ کامران ٹیسوری پوری رات متاثرہ مقام پر موجود رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کو اضافی پانی کی فراہمی کے لیے 26 کروڑ گیلن یومیہ کے منصوبے پر جلد پیش رفت کی جا رہی ہے، تاہم انتظامی غفلت نے گل پلازہ جیسے المناک حادثے کو جنم دیا۔
فاروق ستار نے فائرفائٹر فرقان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بہادر اہلکار نے آگ پر قابو پانے کی کوشش میں اپنی جان قربان کر دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل کی کمی اور ناقص انتظامات کس طرح انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے انکشاف کیا کہ سانحے کے بعد بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں اور کراچی جیسے چار کروڑ آبادی والے شہر کے لیے فائر بریگیڈ کا نظام نہایت ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری خود کراچی کی آبادی چار کروڑ قرار دے چکے ہیں، مگر سرکاری اعداد و شمار میں اسے محض دو کروڑ ظاہر کیا جاتا ہے، پورے شہر میں صرف سو فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں، جن میں سے تقریباً نصف ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ شہر بھر کے لیے محض پچیس فائر اسٹیشن موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پارکس اور باغات تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں جبکہ پچاس فیصد سے زائد تجارتی مراکز ایسے ہیں جہاں فائر بریگیڈ یا ایمرجنسی سے نمٹنے کے بنیادی آلات تک موجود نہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ آگ سے نمٹنے کے لیے چین سے جدید اینٹی فائر غبارے منگوائے جائیں اور شہر کے انفراسٹرکچر کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے۔
فاروق ستار نے ایوان سے اپیل کی کہ کراچی کے مسائل کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کے طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئیے مل کر کراچی کو ظہران ممدانی کے نیویارک یا صادق خان کے لندن کی طرز پر ایک جدید اور محفوظ شہر بنائیں اور آئین کے آرٹیکل 140 اے کو اٹھائیسویں ترمیم کا حصہ بنا کر مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فاروق ستار نے ایم کیو ایم نے کہا کہ گل پلازہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔