ایک واقعے کو بنیاد بنا کر 18ویں ترمیم اور تعلیم تک جانا عجیب ہے، یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے: شہلا رضا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر صوبوں، 18ویں آئینی ترمیم اور حتیٰ کہ بنیادی تعلیم جیسے معاملات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں مگر ہر واقعے کو سیاسی بحث اور آئینی معاملات سے جوڑ دینا مناسب طرزِ عمل نہیں۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے شہلا رضا نے مختلف مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے کے ایک واقعے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے، مگر وہاں اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ اسی طرح لاہور کے حفیظ سینٹر میں تین مرتبہ آگ لگنے کے واقعات پیش آئے لیکن ان حادثات کو بنیاد بنا کر کسی صوبے یا نظام پر سوال نہیں اٹھائے گئے، آگ ایک حادثہ ہے اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں، ان سانحات کو سیاست کی نذر کرنا مناسب نہیں۔
شہلا رضا نے مزید کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بات کو 18ویں ترمیم اور صوبائی اختیارات تک لے جایا جائے، 18ویں ترمیم ایک متفقہ آئینی ترمیم ہے جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے جائز حقوق دیے گئے اور اسے کسی ایک حادثے سے جوڑنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ آئینی روح کے بھی منافی ہے۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نے سندھ کی تاریخی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایک ایسا خطہ ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اسے قبل از مسیح دور سے دیکھا جانا چاہیے، سندھ کوئی نیا صوبہ نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، جس نے ہمیشہ رواداری، برداشت اور انسان دوستی کا پیغام دیا ہے۔
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے دل کھول کر مہاجرین کو خوش آمدید کہا۔ ان کے مطابق مختلف ادوار میں ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کو سندھ نے نہ صرف قبول کیا بلکہ انہیں اپنے معاشرے کا حصہ بنایا،سندھ کی یہ روایت اس کی وسیع القلبی اور تاریخی شعور کی عکاس ہے۔
ایوان میں خطاب کے دوران شہلا رضا نے اس بات پر زور دیا کہ سانحات سے سبق ضرور سیکھا جانا چاہیے لیکن انہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا آئینی ڈھانچے پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کے اسباب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے نہ کہ صوبوں اور آئینی ترامیم کو متنازع بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو بنیاد بنا کر شہلا رضا نے کرتے ہوئے ایک واقعے واقعے کو
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔