سیاسی بحران کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، ناصر عباس کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد سینیٹ میں پہلا خطاب WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا واحد حل بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی رہائی ہے۔ایوانِ بالا میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی نے تمام انبیا کو عدل و انصاف کے قیام کے لیے بھیجا۔

انہوں نے کہاکہ ملک کے تینوں ریاستی ستون کمزور ہو چکے ہیں اور قانون کی بالادستی ختم ہوتی جا رہی ہے۔علامہ راجا ناصر عباس کے مطابق چند دہشتگردوں کی تلاش میں پورے علاقے کو گھیر لیا جاتا ہے، جبکہ اگر یہی ذمہ داری مقامی افراد کو دی جاتی تو دہشتگردوں کو آسانی سے پکڑا جا سکتا تھا۔قائدِ حزبِ اختلاف نے کہاکہ ملک میں انصاف کا نظام بحال ہونا چاہیے۔ انہوں نے لاہور کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، حالانکہ وہ کوئی دہشتگرد نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرکے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ لوگوں کو بولنے کی آزادی دی جائے کیونکہ اسی سے ریاست مضبوط ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان پر قائم مقدمات آگے نہیں بڑھ رہے اور سیاسی بحران کا حل صرف ان کی رہائی میں ہے۔علامہ راجا ناصر عباس نے کہاکہ وہ اپنی فوج کا احترام کرتے ہیں اور اسے سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان ملک کے دفاع میں جنگیں لڑ چکا ہے اور ہمیشہ افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔واضح رہے کہ محمود اچکزئی کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تقرری کے بعد سینیٹ میں علامہ راجا ناصر عباس کی قائد حزب اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرروانڈا کی ہائی کمشنرکی چوتھے آل پاکستان وومن چیمبرز پریزیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت روانڈا کی ہائی کمشنرکی چوتھے آل پاکستان وومن چیمبرز پریزیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، محمد اورنگزیب فیضان گلوبل ریلیف فاونڈیشن دعوت اسلامی کی ٹیم امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے فلسطین پہنچ گئی چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی بہتری پر اجلاس وزیر تجارت جام کمال خان سے فلپائن کے سفیر کی ملاقات ، دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا.

.. نیب راولپنڈی کی جانب سے بینکرز سٹی ہاوسنگ سوسائٹی متاثرین کو رقوم کی واپسی شروع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عمران خان کی رہائی سیاسی بحران کا اپوزیشن لیڈر سینیٹ میں

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر