سانحہ گل پلازا: 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں، پولیس سرجن کراچی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ۔فوٹو: فائل
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ نے تصدیق کی ہے کہ گل پلازا آتشزدگی میں جھلسنے والی 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہے۔
پولیس سرجن کراچی نے گل پلازا سے ملنے والی لاشوں سے متعلق تفصیلات جاری کردیں اور بتایا کہ جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہوگئی۔
آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازا کا پہلا مالک کون؟ جیو نیوز نے دستاویز حاصل کرلیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے مزید کہا کہ جھلسی لاشوں میں 8 افراد کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں کاشف، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی اور تنویر شامل ہیں۔
پولیس سرجن کراچی نے یہ بھی کہا کہ آٹھویں لاش کی باقیادت سے ملنے والے لاکٹ کی مدد سے اہلخانہ نے اسے شناخت کیا۔
انہوں نے کہا کہ 20 لاشیں تاحال ناقابلِ شناخت ہیں، ناقابل شناخت لاشوں کے نمونے لے لیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیس سرجن کراچی گل پلازا
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔