گل پلازہ آتشزدگی، 26 جاں بحق، 81 افراد لاپتا، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے معائنے جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کی شب لگنے والی خوفناک آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ پر 34 گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا، تاہم عمارت اب بھی ساختی طور پر کمزور اور غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
ریسکیو ادارے، پاک فوج، رینجرز اور سول انتظامیہ کی مدد سے لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ڈی سی آفس میں قائم ہیلپ ڈیسک کے مطابق 81 افراد لاپتا ہیں۔ شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپلز لینے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
حادثے کے بعد آگ بجھاتے ہوئے عمارت گرنے سے فائر فائٹر فرقان علی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ناظم آباد فائر اسٹیشن کو شہید فرقان کے نام سے منسوب کرنے، بیوہ کو ملازمت اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
عینی شاہدین اور متاثرہ افراد نے انکشاف کیا کہ عمارت کے 26 میں سے 24 دروازے رات 10 بجے کے بعد بند تھے، جس سے عمارت موت کا جال بن گئی۔ ایمرجنسی اخراج کے راستے بھی موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، قرآن پاک کے نسخے مکمل طور پر محفوظ رہے
ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ میں غیر قانونی تعمیرات، زائد دکانیں اور گزرگاہوں پر قبضے تھے، جس نے ریسکیو کام کو شدید متاثر کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ تحقیقات اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
gul plaza karachi fire فائر فائٹر کراچی گل پلازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فائر فائٹر کراچی گل پلازہ گل پلازہ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔