تصویر، ہمایوں خان فیس بک 

کراچی میونسپل کارپوریشن کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا کا ریسکیو آپریشن مکمل ہونے میں 15 روز بھی لگ سکتے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ہمایوں خان نے کہا کہ متاثرہ عمارت کا ملبہ ہٹانے کے دوران آگ کے شعلے دوبارہ بھڑکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمارت کا رقبہ بہت بڑا ہے ریسکیو آپریشن کی تکمیل میں 15 روز بھی لگ سکتے ہیں، گزشتہ روز عمارت سے کافی کیش ریکور کرکے متعلقہ اداروں کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی اور دوسری منزل کی سرچنگ کی، دوسری منزل پر تپش کافی زیادہ ہے، اس لئے آگے نہیں جاسکے اور سرچ آپریشن کو روکنا پڑا ہے۔

چیف فائر آفیسر کے ایم سی نے مزید کہا کہ ہم مسلسل 3 دن سے کام کر رہے ہیں، گزشتہ روز چھت پر بنی پارکنگ سے 32 گاڑیاں اتاری ہیں۔

ہمایوں خان نے یہ بھی کہا کہ پہلے روز آگ کی شدت کافی تھی قریب سے آپریشن نہیں کرسکتے تھے، ہمارا ایک فائر فائٹر شہید ہوگیا پھر بھی ہم پر تنقید کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، شہر میں فائر اسٹیشنز کی بہت کمی ہے،21 فائر اسٹیشنز کے فنڈز میں 28 فائر اسٹیشنز چلا رہے ہیں۔

چیف فائر آفیسر نے کہا کہ اس شہر میں ہزاروں فائر ٹینڈرز درکار ہیں، ہم صرف چند گاڑیوں سے شہر میں اپنی استعداد سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: چیف فائر ا فیسر ہمایوں خان نے کہا کہ

پڑھیں:

میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے

تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین