پیپلز پارٹی اسلام آباد سٹی اور ضلع کی تنظیم تاحال قائم ہے،ہمایوں خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پیپلز پارٹی اسلام آباد سٹی اور ضلع کی تنظیم تاحال قائم ہے،ہمایوں خان WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ہمایوں خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اسلام آباد سٹی اور ضلع کی تنظیم تاحال قائم ہے، اسلام آباد کی تنظیم کے تحلیل ہونے کا نوٹیفیکیشن غلط ہے
پیپلز پارٹی سینٹرل سیکریٹریٹ کے انچارج کو تنظیم کو تحلیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے، تنظیم کو تحلیل کرنے کے لئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی منظوری لازمی ہے، ابھی تک چیئرمین نے پارٹی کی اسلام آباد کی تنظیم کو تحلیل کرنے کی منظوری نہیں دی، چیئرمین کی منظوری کے بعد مرکزی سیکریٹری جنرل تنظیم کو تحلیل کرسکتا ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ ہاوس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری پارلیمنٹ ہاوس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری اماراتی صدر نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کی ملاقات، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کا دن، علیمہ خان کی خواتین اور کارکنان کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکے پر... بانی اور بشری بی بی کی قید تنہائی ختم کرنے کیلئے بیرسٹر علی ظفر سمیت 14 پی ٹی آئی سینیٹرز نے اسلام آباد ہائیکورٹ... وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کیلئے راناثنااللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی اسلام آباد کی تنظیم
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔