سانحہ گل پلازہ پر وفاقی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا: جام کمال
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی: وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا اور افسوسناک حادثہ ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور بھاری مالی نقصان بھی ہوا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر متاثرین کی مدد اور نقصانات کے ازالے کے لیے بھرپور کوشش کریں گی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے ہمراہ گل پلازہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ لی۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ تاجروں اور عملے سے ملاقات بھی کی اور ان کے مسائل سنے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت اس سانحے کو محض ایک واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرے گی بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لے کر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
جام کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والا واقعہ گورننس کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جنہیں دور کرنا ناگزیر ہے، سندھ حکومت اور میئر کراچی کے نوٹس میں تمام معاملات لائے جا چکے ہیں اور ان پر کام جاری ہے۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ شہریوں اور تاجر برادری کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ ان کی بنیادی ذمے داری تاجر برادری سے متعلق امور دیکھنا ہے، اس لیے گل پلازہ سے متاثر ہونے والے تاجروں کی بحالی اور کاروباری نقصانات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد کرے گی، متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قابلِ عمل حل نکالا جائے گا۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی اور انتظامی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ شہریوں اور تاجروں کو ایسے خطرناک واقعات کا سامنا نہ کرنا پڑے، وفاقی حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وفاقی حکومت جام کمال نے گل پلازہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔