اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کے ترجمان جوناتھن فولر نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج صبح سات بجے کے کچھ دیر بعد ایجنسی کے کمپلیکس میں داخل ہوئیں اور بلڈوزروں کے ذریعے اندر موجود تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ صیہو ی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی انروا کا ہیڈکوارٹر مسمار کر دیا۔ اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کے ترجمان جوناتھن فولر نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج صبح سات بجے کے کچھ دیر بعد ایجنسی کے کمپلیکس میں داخل ہوئیں اور بلڈوزروں کے ذریعے اندر موجود تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انروا اور اس کے دفاتر پر ایک بے مثال حملہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو حاصل مراعات اور استثنیات کی بھی سنگین پامالی ہے۔ دوسری جانب انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے شیخ جراح میں ایجنسی کی عمارتوں کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج قرار دیا۔ لازارینی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ واقعہ بین الاقوامی قانون کی کھلی اور دانستہ خلاف ورزی کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے جس میں اقوام متحدہ کو حاصل مراعات اور تحفظات بھی شامل ہیں اور یہ سب قابض اسرائیل کی جانب سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آج علی الصبح قابض اسرائیل کی افواج نے القدس میں انروا کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا اور اس کے اندر موجود عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ یہ سب قانون سازوں اور قابض اسرائیل کی حکومت کے ایک رکن کی موجودگی میں ہوا جو اقوام متحدہ کی کسی ایجنسی اور اس کی عمارتوں پر ایک بے مثال حملہ ہے۔ لازارینی نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل بین الاقوامی طور پر اقوام متحدہ کی عمارتوں کے احترام اور تحفظ کا پابند ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 14 جنوری کو قابض اسرائیل کی افواج نے مقبوضہ مشرقی القدس میں انروا کے ایک صحت مرکز پر دھاوا بول کر اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں ایجنسی کی تنصیبات بشمول صحت اور تعلیمی عمارتوں کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی انروا کے ہیڈکوارٹر کے اندر قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے کی جانے والی مسماری کی کارروائیوں نے اقوام متحدہ اور فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خطرناک خلاف ورزی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے میں اقوام متحدہ کے کردار پر براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انروا نے شیخ جراح میں اپنے دفاتر پر اس غیر معمولی حملے کی سخت مذمت کی جہاں قابض اسرائیل کی افواج نے ایجنسی کے کمپلیکس پر دھاوا بول کر اندر مسماری اور بلڈوزنگ شروع کی۔ یہ کارروائی قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی نگرانی میں انجام دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل کی افواج بین الاقوامی قانون اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کے انہوں نے کر دیا اور اس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم