کراچی میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے، ہم چندگاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں: چیف فائر آفیسر
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سٹی 42: چیف فائر آفیسر کے ایم سی ہمایوں احمدکا کہنا ہےکہ سانحہ گل پلازہ میں ہمارا ایک فائر فائٹر شہید ہوگیا پھر بھی ہم پر تنقیدکی جا رہی ہے، ہمارا سیاست سےکوئی تعلق نہیں، شہر میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں چیف فائرآفیسر کا کہنا تھا کہ اس شہر میں سیکڑوں فائر ٹینڈرز درکار ہیں، ہم 21 فائر اسٹیشنز کےفنڈ کے ساتھ 28 فائر اسٹیشنز چلا رہے ہیں، ہم چندگاڑیوں اور 28 فائر اسٹیشنزکے ساتھ شہر میں کام کر رہے ہیں، اپنی استعداد سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ چیف فائرآفیسر کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کو مکمل ہونےمیں 15 روز بھی لگ سکتےہیں، بہت بڑا رقبہ ہے، ملبے کو ہٹانے کے دوران آگ بھڑکتی ہے۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روزکافی کیش ریسکیو آپریشن کے دوران ریکور کرکے متعلقہ اداروں کے حوالےکیا، تین دن سے ہم یہاں مسلسل کام کر رہے ہیں، ہم نے پہلی اور دوسری منزل کی سرچنگ کی، دوسری منزل پر ہیٹ کافی زیادہ ہے،گزشتہ روز چھت پربنی پارکنگ سے 32 گاڑیاں اتاری ہیں، پہلے روز آگ کی شدت کافی تھی قریب سے آپریشن نہیں کرسکتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کام کر رہے ہیں چیف فائر کا کہنا
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔