بلغاریا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلغاریا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفی
صوفیا: بلغاریا کے صدر رومین رادیو نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق بلغاریا کے کسی صدرنے پہلی بار قبل از وقت عہدہ چھوڑا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت بنانے کے لیے صدر کے اہم جماعتوں سے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، گزشتہ ماہ ملک کے عوام نے حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے مظاہرہ کیا تھا۔ دوسری طرف اتحادی جماعت نے بھی مظاہروں کے بعد حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاج کی وجہ سے بلغاریہ کے وزیر اعظم روزن زیلیازکوو مستعفی ہوگئے تھے کیونکہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی لیکن وہ اس سے قبل ہی مستعفی ہوگئے تھے جبکہ بلغاریا میں حکومت کی اقتصادی پالیسی اور کرپشن کے خلاف کئی ہفتے احتجاج جاری رہا تھا، حکومت کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کرکے کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے یقین تھا کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں گی لیکن حکومت کا وجود عوامی اعتماد سے ہے اور جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں تو ان کی آواز سننا سب سے پہلے ہماری ذمے داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلغاریا کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔