اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں سنگین مالی بے ضابطگیاں اور کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں اور 2010 سے 2014 کے دوران تاخیر سے ادائیگیوں پر سرچارج وصول نہ کیے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں کنوینئر کمیٹی شاہدہ اختر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں آڈٹ رپورٹ 14-2013 کے تحت ایف بی آر میں مالی بدانتظامی اور کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بروقت ادائیگی نہ کرنے پر سرچارج لاگو نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایک کروڑ 51 لاکھ 50 ہزار روپے کا نقصان ہوا اور آڈٹ حکام کے مطابق کراچی اور اسلام آباد کے کسٹمز دفاتر کی غفلت کے باعث 11 دن سے لے کر 385 دن تک کی تاخیر سامنے آئی۔

آڈٹ بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ 13 کروڑ 38 لاکھ روپے کی رقم تاحال محکمانہ کارروائی کی منتظر ہے جبکہ صرف 9 لاکھ 60 ہزار روپے کی وصولی کی تصدیق ہو سکی ہے۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ سرکاری واجبات کی بروقت وصولی نہ ہونے سے قومی خزانے کو براہِ راست نقصان پہنچا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک سرکاری ادارے کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی جس پر سرچارج عائد ہونا تھا تاہم لیٹ پیمنٹ پر سرچارج کی منظوری کے عمل میں تاخیر ہوگئی، جس پر کمیٹی نے آڈٹ پیرا کی ویریفیکیشن کی ہدایت دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

اجلاس میں ایک اور آڈٹ پیرا پر بھی غور کیا گیا جس میں اضافی کسٹمز ڈیوٹی وصول نہ کیے جانے سے 2 کروڑ 55 لاکھ روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا۔

آڈٹ حکام کے مطابق پانچ مختلف کسٹمز کلیکٹوریٹس نے اضافی ڈیوٹی وصول کیے بغیر درآمدات کلیئر کیں، یہ بے ضابطگی جولائی سے دسمبر 2013 کے دوران سامنے آئی۔

حکام نے بتایا کہ ڈی اے سی اجلاس میں 25 لاکھ روپے کی جزوی ریکوری رپورٹ ہو چکی تھی، اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ ریکوری مشکل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ریکوری چھوڑ دی جائے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پورا نظام اب کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور آئندہ اس قسم کی بے ضابطگیاں نہیں ہوں گی۔

ایف بی آر حکام کے مطابق مجموعی طور پر 15 اعشاریہ 6 ملین روپے ریکور ہو چکے ہیں جبکہ 10 اعشاریہ 9 ملین روپے کی وصولی ابھی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پر سرچارج ایف بی آر کی خلاف کیا گیا روپے کی

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف