فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے یورپ کو بھاری ٹیرف کی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ نہ تو غنڈوں کے سامنے جھکے گا اور نہ ہی دھمکیوں سے مرعوب ہوگا۔

ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر میکرون نے کہا کہ یورپ ’طاقتور کی حکمرانی‘ کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا، کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب یورپ کو غلامی کی طرف دھکیلنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان

انہوں نے واضح کیا کہ یورپ علاقائی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے دنیا بغیر اصولوں کے نظام کی طرف ہی کیوں نہ بڑھ رہی ہو۔

صدر میکرون نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلسل نئے تجارتی ٹیرف عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے، خاص طور پر جب انہیں کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

‘We’re shifting to a world without rules.

Imperial ambitions are resurfacing.’

President Macron references “fundamentally unacceptable tariffs used as leverage against sovereignty’ during his speech in Davos.

This comes after Trump shared a text between the two on his socials pic.twitter.com/6LxmWYZOjx

— Sky News (@SkyNews) January 20, 2026

انہوں نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین بھی امریکی دباؤ کے جواب میں سخت تجارتی اقدامات کر سکتی ہے، جن میں بھاری جوابی ٹیرف اور ’اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ‘ کے استعمال پر غور شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین نے گرین لینڈ سے متعلق صورتحال پر ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکا کے خلاف 93 ارب یورو مالیت کی اشیا پر ٹیرف دوبارہ عائد کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان

صدر میکرون نے امریکی صدر کی جانب سے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف کی دھمکی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی اقدامات کی دھمکیاں دی ہیں، جس پر یورپی ممالک نے اسے بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میکرون اور ٹرمپ کے درمیان ڈیووس میں کسی ملاقات کا امکان نہیں، جبکہ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ صدر میکرون جمہوری اصولوں کے دفاع میں کھل کر مؤقف اختیار کرنے کے باعث امریکی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون گرین لینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون گرین لینڈ صدر میکرون گرین لینڈ میکرون نے کہ یورپ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل