امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے۔
امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفینس کمانڈ (نوراڈ) نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گے۔
امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوارڈ کے مطابق گرین لینڈ کی حکومت کو بھی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
نوارڈ کے مطابق امریکی طیاروں کی نئی کھیپ پہنچانے میں ڈنمارک حکومت سے ہم آہنگی ہے۔ امریکی فورسز کو ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ دراصل ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔1951 میں امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عزم کیا تھا، جبکہ امریکا اور کینیڈا نے 1958 میں سرد جنگ کے آغاز پر دفاعی معاہدے نوراڈ پر دستخط کیے تھے۔
North American Aerospace Defense Command (NORAD) aircraft will soon arrive at Pituffik Space Base, Greenland.
— North American Aerospace Defense Command (@NORADCommand) January 19, 2026
نوراڈ کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کی بروقت اطلاع دینا ہے۔
ٹرمپ کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا اتنا ضروری کیوں ہے؟
قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک امریکا کے پاس گرین لینڈ کا مکمل اور حتمی کنٹرول نہیں ہوگا، دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی، نوبیل امن انعام کے لیے نظر انداز کیے جانے کے بعد وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔
ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گاہر اسٹورے کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ دنیا اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک امریکا گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر لے۔ مذکورہ پیغام کی تصدیق اسٹورے کے دفتر نے کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکا کے گرین لینڈ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔