غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے انکار؛ ٹرمپ کی فرانسیسی صدر کو عہدے سے ہٹانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون زیادہ عرصے اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب انھیں فرانس کو اپنے ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
فرانسیسی صدر ایما نویل میکرون نے صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔
جس پر صدر ٹرمپ نے فرانس سے درآمد ہونے والی شراب شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی تھی۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ فرانسیسی صدر کو کوئی پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ (ایمانویل میکرون) بہت جلد اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔
اسی دوران ٹرمپ نے میکرون کا نجی پیغام بھی شیئر کیا، جس میں میکرون نے گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے کچھ مؤقفوں پر حیرت کا اظہار کیا اور ایک G7 اجلاس میں مشترکہ تعاون کی تجویز بھی دی۔
صدر ٹرمپ کے ٹریف عائد کرنے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ یورپی یونین متحد ہو کر اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا جواب دے گی۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون میعاد پوری ہونے تک اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں اور انھوں نےتمام تر سیاسی دباؤ کے باوجود استعفیٰ دینے سے بھی صاف انکار کیا ہے۔
فرانس میں صدر ایمانویل میکرون نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور بعد میں دوبارہ منتخب ہوئے، مگر ان کی حکومت کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریکوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا بھی رہا ہے، جس نے ان کی مقبولیت اور سیاسی استحکام کو متاثر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر ایمانویل میکرون نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔