Jasarat News:
2026-06-02@20:47:46 GMT

کیا ایران ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران میں زندگی ایک بار پھر معمول پر ہے۔ انٹرنیٹ سروسز بحال کردی گئی ہیں۔ اسکول کھل گئے ہیں۔ پرجوش اور چہچہاتی فارسی بازاروں میں گونج رہی ہے۔ 28 دسمبر 2025 کو معاشی اور اقتصادی مسائل اور ڈالر کی گراوٹ کی وجہ سے بازاروں کی بندش سے شروع ہونے والے مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے پر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ ہنگاموں کی تفصیلات بیش تر مغربی میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں جو اسرائیل اور امریکا کے بھوت نما سوداگر ہیں اور ان کی اسٹیبلشمنٹ کا یکطرفہ بیانیہ فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ ہنگاموں کو ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے منظم اور بڑے ہنگامے بناکر پیش کیا لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

2019 میں ایران میں جب ایندھن کی قیمت میں اچانک اضافہ کردیا گیا تھا، ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل گئے تھے، ایک سخت کریک ڈائون، سوشل میڈیا کی بندش اور سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت ان ہنگاموں پر قابو پاسکی تھی۔ 2022 میں حجاب کے ضابطے کی خلاف ورزی پر مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت پر بھی طلبہ، نوجوان، خواتین اور شہری وسیع پیمانے پر باہر نکل آئے تھے، ہزاروں گرفتاریوں، سیکڑوں ہلاکتوں اور ریاستی سیکورٹی کے سخت استعمال کے بعد جن پر قابو پایا جاسکا تھا۔ 2026 کے حالیہ معاشی اور سیاسی ہنگامے اپنی شدت اور گہرائی میں 2019 اور 2022 کے ہنگاموںسے کم تھے۔ تاہم اس مرتبہ تشدد کے واقعات پہلے سے زیادہ تھے۔

حالیہ ہنگاموں کے آغاز کے ساتھ ہی امریکا، اسرائیل اور ان کی بدنام زمانہ ایجنسیاں ہنگاموں میں شامل ہوگئی تھیں اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ ایران میں جب جب ہنگامے ہوئے امریکا اور اسرائیل نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور رجیم چینج کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ ہنگاموں میں صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو حکومتی عمارتوں پر قبضہ کرنے پر اُکسایا۔ موساد اور سی آئی کے ایجنٹ کھلم کھلا ہنگاموں کا حصہ بنے اور خود موساد کے ٹوئٹر اکائونٹ سے یہ اعلان کیا گیا کہ موساد مظاہرین کے ساتھ گرائونڈ پر موجود ہے۔ تب بہت سے ایسے افراد مظاہروں میں نظر آئے جن کے پاس ہینڈ گرنیڈ، کلاشنکوف یہاں تک کہ آر پی جی جیسے بھاری ہتھیار بھی موجود تھے جو ٹینک، بکتربند گاڑیوں، عمارتوں یا مضبوط اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تب حکومتی مراکز، پولیس اسٹیشنوں اور میزائلوں کے اسٹوریج پر حملے اور قبضے کی کوششیں کی گئیں جن کے نتیجے میں تشدد کے بڑھنے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

حالیہ ہنگاموں میں مرنے والوں کی درست تعداد کا تعین دشوار ہے تاہم ایک بات طے ہے 15 یا 20 ہزارجو مغربی میڈیا بتارہا ہے وہ مس انفارمیشن اور جھوٹے پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ تعداد بڑھا کر بتانے کی وجہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرنے والے مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو امریکا ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔ مغربی میڈیا میں اسرائیلی لابی کی ورغلاہٹ کے بعد دوڑ شروع ہوگئی کہ مرنے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے تاکہ صدر ٹرمپ پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے دبائو میں اضافہ کیا جاسکے۔ یاد رہے مرنے والوں میں خاصی بڑی تعداد، سو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ، سیکورٹی اہلکاروں کی ہے جو میزائل، فوج اور پولیس کے مراکز کا دفاع کرتے ہوئے مارے گئے جن پر منظم حملے کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

ایران کی نوجوان نسل یقینا حکومت سے زیادہ خوش نہیں ہے تاہم حالیہ ہنگامے خواتین کی یا نوجوانوں کی شورش کا نتیجہ نہیں تھے ان کی وجہ معاشی اور اقتصادی تھی۔ امریکا اور اسرائیل نے جنہیں ہائی جیک کرنے اور کچھ اور رُخ دینے کی کوشش کی۔ حکومت نے انٹرنیٹ اور اسٹار لنک بند کرکے جن کا رابطہ شرپسندوں سے کاٹ دیا۔ اسٹار لنک کے ذریعے ان ہنگاموں کی بڑھوتری کی بہت کوشش کی گئی۔ تقریباً 40 ہزار ٹرمینل اس موقع پر استعمال کیے گئے۔ ایران کی سائبر سیکورٹی فورس نے روس کی مدد سے جنہیں جیمرز کے ذریعے بلاک کردیا۔ اسٹار لنک کی بندش کو ایران کی بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے کیونکہ ایلون مسک کا بھی وہی سیاسی ایجنڈا ہے جو ٹرمپ کا ہے، امریکا کا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملے کا التوا مستقل ہے یا وقتی اور لمحاتی؟ نظر یہ آتا ہے کہ حملہ موخر کیا گیا ہے۔ خبریں یہ ہیں کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں ان پر ایران پر فی الحال حملہ نہ کرنے پر زور دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ انٹر نیٹ بند کرنے کے بعد ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف جو کریک ڈائون کیا اس میں بڑے پیمانے پر موساد کے ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس وجہ سے موساد کا نیٹ ورک ایران کے اندر مکمل طور پر آپریشنل نہ ہوسکا۔ حملے کی صورت میں ایران کے اندر سے موساد کی طرف سے وہ ردعمل اور جواب ملنے کی اُمید نہیں رہی تھی جو حملے کی کامیابی کو ممکن بنا سکتا۔

ایک دن پہلے تک اسرائیل اور امریکا ایران پر حملے کے لیے بھرپور تیار تھے۔ قطر کے العدید ائربیس سے امریکی فوجیوں کو ہٹا لیا گیا تھا۔ ایران کے پڑوسی ممالک کو حملے کے بارے میں بریف کیا جارہا تھا۔ ایران بھی جوابی کارروائی کے لیے تیار تھا اس نے گلف ممالک کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر آپ کے ملک میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ ہوا تو ایران ان اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ لیکن ان تیاریوں کے باوجود حملہ نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے اندر اپنے ایجنٹوں کو جس آپریشنل تیاری میں لاکر حملہ کرنا چاہتے تھے وہ مکمل نہیں ہوسکی تھی جس کی وجہ سے بیرونی فضائی حملہ ایران کے اندر سے موساد کے حملے سے لنک نہیں ہوسکتا تھا۔

امریکا اور اسرائیل ایران کو نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران ایک کثیر نسلی ریاست ہے جس میں فارسی، آذری، کرد، بلوچ، عرب اور ترکمن موجود ہیں۔ ایران کے مرکز (تہران) کو کمزورکرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل اس کے اطراف میں عدم استحکام کو بڑھا کر، موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو ختم کرکے، ایران کو بھی شام کی طرح منتشر اور کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے شمال میں کردستان اور آذربائیجانی علاقوں میں قوم پرست جذبات کو اُبھار کر انہیں سیاسی شناخت دی جائے۔ جنوب اور جنوب مشرق سیستان اور بلوچستان میں مسلح گروہوں کے ذریعے عدم استحکام لایا جائے۔ مغرب اور مشرق میں داعش اور تکفیری عناصر کو ایران کے خلاف استعمال کرکے شیعہ ایران کو فرقہ وارانہ جنگ میں الجھایا جائے۔

سوویت یونین کو بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا۔ سوویت یونین بھی کثیر نسلی وفاقی ریاست تھا جہاں ہر قوم کو آئینی طور پر علٰیحدگی کا حق حاصل تھا۔ جہاں کمیونزم نظریاتی طور پر بہت مضبوط تھا اور معیشت فیصلہ کن عنصر تھی۔ وہاں پہلے طاقت ور مرکز یعنی ماسکو کو نظریاتی طور پر کمزور کیا گیا۔ کمیونزم بطور نظریہ اخلاقی کشش کھو بیٹھا۔ معاشی جمود نے اشیاء کی قلت پیدا کردی۔ قومیں پہلے ہی ریاستی اکائیاں تھیں فوجیں نظریاتی طور پرغیر جانبدار ہوئیں تو ریاستیں موقع ملتے ہی علٰیحدہ ہونے لگیں۔ ایران میں بھی امریکا اسی فارمولے کو دوہرانا چاہتا ہے لیکن ایران میں معاملہ دیگر ہے وہاں نسلی شناختیں موجود ہیں مگر کوئی صوبہ مکمل طور پر الگ ریاست نہیں ہے۔ پاسداران انقلاب نظریاتی، معاشی اور عسکری طاقت رکھتے ہیں اور مضبوطی سے مرکز سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوویت یونین میں مغرب نے باہر سے دبائو ڈالا اور وہ اندر سے منہدم ہونا شروع ہو گیا۔ ایران میں شدید بیرونی دبائو کے باوجود اندرونی ٹوٹ پھوٹ اس سطح کی نہیں ہے۔ ایران میں ڈالر کی گراوٹ اور مہنگائی کے باوجود غربت اتنی نہیں ہے کہ ڈبل روٹی کے حصول کے لیے قطاریں لگ جائیں۔ ایران میں مرکز اور اطراف میں مکمل بیگانگی ہے اور نہ لوگ نظریاتی طور پر انقلاب سے ٹوٹے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ایران ابھی سوویت یونین نہیں بنا۔ فی الحال اس کے ٹوٹنے کے امکان نہیں۔ اندرونی سیاسی اور معاشی اصلاحات ایران کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہیں۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل نظریاتی طور پر حالیہ ہنگاموں ایران کے اندر سوویت یونین اسرائیل اور مرنے والوں ایران میں معاشی اور کا ایران ایران کو ایران کی ایران پر کے ذریعے کیا گیا نہیں ہے کے لیے کی وجہ کے بعد

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان