Jasarat News:
2026-07-24@02:09:20 GMT

کیا ایران ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران میں زندگی ایک بار پھر معمول پر ہے۔ انٹرنیٹ سروسز بحال کردی گئی ہیں۔ اسکول کھل گئے ہیں۔ پرجوش اور چہچہاتی فارسی بازاروں میں گونج رہی ہے۔ 28 دسمبر 2025 کو معاشی اور اقتصادی مسائل اور ڈالر کی گراوٹ کی وجہ سے بازاروں کی بندش سے شروع ہونے والے مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے پر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ ہنگاموں کی تفصیلات بیش تر مغربی میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں جو اسرائیل اور امریکا کے بھوت نما سوداگر ہیں اور ان کی اسٹیبلشمنٹ کا یکطرفہ بیانیہ فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ ہنگاموں کو ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے منظم اور بڑے ہنگامے بناکر پیش کیا لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

2019 میں ایران میں جب ایندھن کی قیمت میں اچانک اضافہ کردیا گیا تھا، ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل گئے تھے، ایک سخت کریک ڈائون، سوشل میڈیا کی بندش اور سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت ان ہنگاموں پر قابو پاسکی تھی۔ 2022 میں حجاب کے ضابطے کی خلاف ورزی پر مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت پر بھی طلبہ، نوجوان، خواتین اور شہری وسیع پیمانے پر باہر نکل آئے تھے، ہزاروں گرفتاریوں، سیکڑوں ہلاکتوں اور ریاستی سیکورٹی کے سخت استعمال کے بعد جن پر قابو پایا جاسکا تھا۔ 2026 کے حالیہ معاشی اور سیاسی ہنگامے اپنی شدت اور گہرائی میں 2019 اور 2022 کے ہنگاموںسے کم تھے۔ تاہم اس مرتبہ تشدد کے واقعات پہلے سے زیادہ تھے۔

حالیہ ہنگاموں کے آغاز کے ساتھ ہی امریکا، اسرائیل اور ان کی بدنام زمانہ ایجنسیاں ہنگاموں میں شامل ہوگئی تھیں اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ ایران میں جب جب ہنگامے ہوئے امریکا اور اسرائیل نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور رجیم چینج کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ ہنگاموں میں صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو حکومتی عمارتوں پر قبضہ کرنے پر اُکسایا۔ موساد اور سی آئی کے ایجنٹ کھلم کھلا ہنگاموں کا حصہ بنے اور خود موساد کے ٹوئٹر اکائونٹ سے یہ اعلان کیا گیا کہ موساد مظاہرین کے ساتھ گرائونڈ پر موجود ہے۔ تب بہت سے ایسے افراد مظاہروں میں نظر آئے جن کے پاس ہینڈ گرنیڈ، کلاشنکوف یہاں تک کہ آر پی جی جیسے بھاری ہتھیار بھی موجود تھے جو ٹینک، بکتربند گاڑیوں، عمارتوں یا مضبوط اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تب حکومتی مراکز، پولیس اسٹیشنوں اور میزائلوں کے اسٹوریج پر حملے اور قبضے کی کوششیں کی گئیں جن کے نتیجے میں تشدد کے بڑھنے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

حالیہ ہنگاموں میں مرنے والوں کی درست تعداد کا تعین دشوار ہے تاہم ایک بات طے ہے 15 یا 20 ہزارجو مغربی میڈیا بتارہا ہے وہ مس انفارمیشن اور جھوٹے پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ تعداد بڑھا کر بتانے کی وجہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرنے والے مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو امریکا ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔ مغربی میڈیا میں اسرائیلی لابی کی ورغلاہٹ کے بعد دوڑ شروع ہوگئی کہ مرنے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے تاکہ صدر ٹرمپ پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے دبائو میں اضافہ کیا جاسکے۔ یاد رہے مرنے والوں میں خاصی بڑی تعداد، سو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ، سیکورٹی اہلکاروں کی ہے جو میزائل، فوج اور پولیس کے مراکز کا دفاع کرتے ہوئے مارے گئے جن پر منظم حملے کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

ایران کی نوجوان نسل یقینا حکومت سے زیادہ خوش نہیں ہے تاہم حالیہ ہنگامے خواتین کی یا نوجوانوں کی شورش کا نتیجہ نہیں تھے ان کی وجہ معاشی اور اقتصادی تھی۔ امریکا اور اسرائیل نے جنہیں ہائی جیک کرنے اور کچھ اور رُخ دینے کی کوشش کی۔ حکومت نے انٹرنیٹ اور اسٹار لنک بند کرکے جن کا رابطہ شرپسندوں سے کاٹ دیا۔ اسٹار لنک کے ذریعے ان ہنگاموں کی بڑھوتری کی بہت کوشش کی گئی۔ تقریباً 40 ہزار ٹرمینل اس موقع پر استعمال کیے گئے۔ ایران کی سائبر سیکورٹی فورس نے روس کی مدد سے جنہیں جیمرز کے ذریعے بلاک کردیا۔ اسٹار لنک کی بندش کو ایران کی بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے کیونکہ ایلون مسک کا بھی وہی سیاسی ایجنڈا ہے جو ٹرمپ کا ہے، امریکا کا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملے کا التوا مستقل ہے یا وقتی اور لمحاتی؟ نظر یہ آتا ہے کہ حملہ موخر کیا گیا ہے۔ خبریں یہ ہیں کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں ان پر ایران پر فی الحال حملہ نہ کرنے پر زور دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ انٹر نیٹ بند کرنے کے بعد ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف جو کریک ڈائون کیا اس میں بڑے پیمانے پر موساد کے ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس وجہ سے موساد کا نیٹ ورک ایران کے اندر مکمل طور پر آپریشنل نہ ہوسکا۔ حملے کی صورت میں ایران کے اندر سے موساد کی طرف سے وہ ردعمل اور جواب ملنے کی اُمید نہیں رہی تھی جو حملے کی کامیابی کو ممکن بنا سکتا۔

ایک دن پہلے تک اسرائیل اور امریکا ایران پر حملے کے لیے بھرپور تیار تھے۔ قطر کے العدید ائربیس سے امریکی فوجیوں کو ہٹا لیا گیا تھا۔ ایران کے پڑوسی ممالک کو حملے کے بارے میں بریف کیا جارہا تھا۔ ایران بھی جوابی کارروائی کے لیے تیار تھا اس نے گلف ممالک کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر آپ کے ملک میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ ہوا تو ایران ان اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ لیکن ان تیاریوں کے باوجود حملہ نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے اندر اپنے ایجنٹوں کو جس آپریشنل تیاری میں لاکر حملہ کرنا چاہتے تھے وہ مکمل نہیں ہوسکی تھی جس کی وجہ سے بیرونی فضائی حملہ ایران کے اندر سے موساد کے حملے سے لنک نہیں ہوسکتا تھا۔

امریکا اور اسرائیل ایران کو نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران ایک کثیر نسلی ریاست ہے جس میں فارسی، آذری، کرد، بلوچ، عرب اور ترکمن موجود ہیں۔ ایران کے مرکز (تہران) کو کمزورکرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل اس کے اطراف میں عدم استحکام کو بڑھا کر، موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو ختم کرکے، ایران کو بھی شام کی طرح منتشر اور کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے شمال میں کردستان اور آذربائیجانی علاقوں میں قوم پرست جذبات کو اُبھار کر انہیں سیاسی شناخت دی جائے۔ جنوب اور جنوب مشرق سیستان اور بلوچستان میں مسلح گروہوں کے ذریعے عدم استحکام لایا جائے۔ مغرب اور مشرق میں داعش اور تکفیری عناصر کو ایران کے خلاف استعمال کرکے شیعہ ایران کو فرقہ وارانہ جنگ میں الجھایا جائے۔

سوویت یونین کو بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا۔ سوویت یونین بھی کثیر نسلی وفاقی ریاست تھا جہاں ہر قوم کو آئینی طور پر علٰیحدگی کا حق حاصل تھا۔ جہاں کمیونزم نظریاتی طور پر بہت مضبوط تھا اور معیشت فیصلہ کن عنصر تھی۔ وہاں پہلے طاقت ور مرکز یعنی ماسکو کو نظریاتی طور پر کمزور کیا گیا۔ کمیونزم بطور نظریہ اخلاقی کشش کھو بیٹھا۔ معاشی جمود نے اشیاء کی قلت پیدا کردی۔ قومیں پہلے ہی ریاستی اکائیاں تھیں فوجیں نظریاتی طور پرغیر جانبدار ہوئیں تو ریاستیں موقع ملتے ہی علٰیحدہ ہونے لگیں۔ ایران میں بھی امریکا اسی فارمولے کو دوہرانا چاہتا ہے لیکن ایران میں معاملہ دیگر ہے وہاں نسلی شناختیں موجود ہیں مگر کوئی صوبہ مکمل طور پر الگ ریاست نہیں ہے۔ پاسداران انقلاب نظریاتی، معاشی اور عسکری طاقت رکھتے ہیں اور مضبوطی سے مرکز سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوویت یونین میں مغرب نے باہر سے دبائو ڈالا اور وہ اندر سے منہدم ہونا شروع ہو گیا۔ ایران میں شدید بیرونی دبائو کے باوجود اندرونی ٹوٹ پھوٹ اس سطح کی نہیں ہے۔ ایران میں ڈالر کی گراوٹ اور مہنگائی کے باوجود غربت اتنی نہیں ہے کہ ڈبل روٹی کے حصول کے لیے قطاریں لگ جائیں۔ ایران میں مرکز اور اطراف میں مکمل بیگانگی ہے اور نہ لوگ نظریاتی طور پر انقلاب سے ٹوٹے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ایران ابھی سوویت یونین نہیں بنا۔ فی الحال اس کے ٹوٹنے کے امکان نہیں۔ اندرونی سیاسی اور معاشی اصلاحات ایران کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہیں۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل نظریاتی طور پر حالیہ ہنگاموں ایران کے اندر سوویت یونین اسرائیل اور مرنے والوں ایران میں معاشی اور کا ایران ایران کو ایران کی ایران پر کے ذریعے کیا گیا نہیں ہے کے لیے کی وجہ کے بعد

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم