جماعت اسلامی ملک بھرمیں انتظامی بنیادپر علیحدہ صوبوںکی حامی ہے، عبدالرزاق عباسی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی ہزارہ ریجن کے امیر عبدالرزاق عباسی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ہزارہ صوبے سمیت پورے پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر علیحدہ صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے ،ہزارہ صوبہ کے قیام کے لیے 8 لوگوں نے اپنے جان کی قربانی دی،سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے ،ہم تعصبات سے بالا تر ہو کر علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کرتے ہیں،ہزارہ وسائل کے لحاظ سے کراچی کے بعد سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا علاقہ ہے، جماعت اسلامی ملک میں ایسا نظام چاہتی ہے جہاں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنایا جائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہر شہری کو باعزت زندگی گزارنے کا حق ملے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرپریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چودھری، جوائنٹ سیکرٹری عبدالرحمن،سیکرٹری اطلاعات اظفروقاص عباسی، پریس کلب کے سابق صدر احمد خان ملک، سابق سیکرٹری عامر لطیف، سابق خازن احتشام سعید قریشی، سابق جوائنٹ سیکرٹری ثاقب صغیر، سینئر صحافی احمد حسین ،ابرار بختیار، احتشام مفتی،امجد ارشاد،قاضی یاسر،نعمان اعوان، آصف تنولی سمیت پریس کلب کے ممبران اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔عبدالرزاق عباسی نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے انتظامی ،معاشی اور عوامی مسائل کا واحد حل نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے تاکہ ہر خطے کے وسائل وہیں کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکیں،جب تک وسائل پر مقامی عوام کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا،ترقی محض نعروں تک محدود رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کلب کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔