جی ایچ کیو حملہ کیس‘ وکلا کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-08-16
راولپنڈی(مانیٹر نگ ڈ یسک )جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت نے وکلا کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی۔انسداد دہشت گردی عدالت میں9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جج احمد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔وکیل فیصل ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی سے قانونی مشاورت کرنی ہے، ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اس مقدمہ میں گرفتار نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی جیل حکام کی تحویل میں ہیں، ان سے ملاقات سے متعلق اختیارات جیل حکام کے پاس ہیں، معاملہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سے ملاقات
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔