گل پلازہ کے بعد رمپاپلازہ بھی غیرمحفوظ،نوٹس جاری،اموات کی تعداد28 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:گل پلازہ سے ملحقہ رمپاپلازہ بھی غیرمحفوظ ،دکانداروں کو نوٹس جاری کر دیا گیا، مرنے والے افراد کی تعداد 28 تک جا پہنچی، 85 افراد لاپتہ ،اموات بڑھنے کا خدشہ ہے.
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ملحقہ رمپاپلازہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،دکانداروں کو نوٹس جاری کر دیا گیا، ایس بی سی اے نے رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے کر سیل کردیا۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا تباہ حال گل پلازہ نے معائنہ مکمل کیا،گل پلازہ کی بیسمنٹ میں بڑی مقدار میں گرم پانی موجود ہے۔
پانی نکلنے کے بعد ہی اندرونی پلرزکا معائنہ کیا جاسکے گا،متاثرہ عمارت کے رمپا پلازا سے جڑے حصے پر فوری جیک لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق رمپاپلازہ میں کسی بھی قسم کی سرگرمی بغیر اجازت جاری رہی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
کراچی میں سانحہ گل پلازہ کو 5 روز گزر گئے، تباہ حال عمارت کے اندر ریسکیو آپریشن جاری ہے، مرنے والے افراد کی تعداد 28 تک جا پہنچی، 85 افراد لاپتہ ،اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کلیکشن شروع ہو گیا ہے، 18 افراد کے ورثا نے ڈی این اے سیمپل جمع کرا دیئے۔
گل پلازہ کے ملبے پر درجنوں شہری اشکبار ہیں، اور اپنے پیاروں کے لیے اب بھی کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔
کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔