وزیر آبپاشی کا کے بی فیڈر منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیرِ آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی سندھ، جام خان شورو نے کے بی فیڈر منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین منصوبہ بندی نجم شاہ، سیکرٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، سپرنٹنڈنٹ انجینئر سانول کریم اور دیگر افسران بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر نے کے بی فیڈر کی سی سی لائننگ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں اور دیگر امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ افسران نے منصوبے کے دائرہ کار‘ تعمیراتی حکمتِ عملی‘ اب تک حاصل ہونے والے اہداف اور آئندہ کے اہداف سے وزیر کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر کو نہر کے تکنیکی طور پر مشکل چٹانی حصے کا بھی دورہ کروایا گیا جہاں بھاری مشینری جیسے ایکسکیویٹر اور ہائیڈرولک بریکر سخت پتھروں کو کاٹ کر نہر کی تعمیر اور لائننگ میں مصروف تھی۔ سپرنٹنڈنٹ انجینئر سانول کریم نے بتایا کہ یہ حصہ انتہائی پیچیدہ ہے اور یہاں کام کیلیے خصوصی آلات اور مسلسل محنت درکار ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور مقاصد کے حصول کیلیے کام کی رفتار اور معیار دونوں کو بہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی کام جلد مکمل کیے جائیں تاکہ پانی کی اشد ضرورت والے علاقوں کو فوری طور پر پانی فراہم کیا جاسکے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پانی کے سپر پیسج کو جلد از جلد لائننگ کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ پانی بغیر رکاوٹ کے آگے جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔