اسلام ٹائمز: بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں سفر کے دوران مسلح ڈاکوؤں نے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار اور انکے محافظوں کی گاڑی کو روک کر اسلحے کے زور پر قیمتی سامان، موبائل فونز اور اسلحہ چھین لیا۔ واقعہ کے بعد صوبے میں امن و امان سے متعلق خدشات شدید تر ہو گئے ہیں۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: اعجاز علی

اگر بلوچستان کی سڑکوں پر وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز بھی محفوظ نہیں، تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں مسلح ڈاکوؤں نے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار کو ان کے محافظوں سمیت لوٹ لیا۔ یہ واقعہ صرف ایک ڈکیتی نہیں، بلکہ بلوچستان حکومت کے امن و امان کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سنجے کمار نصیر آباد کے علاقے میں سفر کر رہے تھے جب مسلح ڈاکوؤں نے انہیں روک کر اسلحے کے زور پر انکا قیمتی سامان چھین لیا۔ ڈاکوؤں نے نہ صرف پارلیمانی سیکرٹری بلکہ ان کے سکیورٹی گارڈز سے بھی اسلحہ، نقدی اور موبائل فون چھین لیے اور باآسانی فرار ہوگئے۔ ایک طرف حکومت بلوچستان اور سرکاری عہدیداران آئے روز صوبے میں "سب اچھا ہے" کی رپورٹیں پیش کرتے ہیں، تو دوسری طرف شاہراہوں پر ڈاکو راج قائم ہے۔ کروڑوں روپے کے سکیورٹی بجٹ اور جگہ جگہ پولیس و لیویز کی موجودگی کے باوجود، ایک وی آئی پی شخصیت کا اس طرح لٹ جانا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور سرکاری عہدیداران کی پریس کانفرنسز پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

جب ایک پارلیمانی سیکرٹری کے پاس موجود مسلح گارڈز ان کی حفاظت نہیں کر سکے، تو عام شہری کس کے سہارے جئیے گا؟ حکومت کی عوام کے تحفظ اور مجرموں کے خلاف 'زیرو ٹالرینس' پالیسی صرف بیانات تک کیوں محدود ہے؟ سنجے کمار کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے نے بلوچستان حکومت کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ عوام اب صرف مذمتی بیانات نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر ہائی پروفائل شخصیات اس طرح نشانے پر رہیں گی، تو سرمایہ کاری اور ترقی کے خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکیں گے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پارلیمانی سیکرٹری مسلح ڈاکوؤں نے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ