بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بھارت نے بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسند سرگرمیوں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وہاں تعینات بھارتی حکام کے اہلِ خانہ اور زیرِ کفالت افراد کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات سے چند ہفتے قبل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر ہائی کمیشن اور دیگر مقامات پر تعینات بھارتی حکام کے اہلِ خانہ کو بھارت واپس آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خطے میں ایک نیا ورلڈ آرڈر لکھا جا رہا ہے؟
تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارتی مشن اور تمام سفارتی دفاتر بدستور کھلے اور فعال رہیں گے۔
Just in- India has redesignated its High Commission in Bangladesh as a non-family posting for Indian diplomats and officials, citing security concerns ahead of Bangladesh’s elections next month, as a precautionary step.
— Ashoke Raj (@Ashoke_Raj) January 20, 2026
’نان فیملی پوسٹنگ‘ کو سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے، جو عموماً ایسے ممالک یا مقامات پر نافذ کی جاتی ہے جہاں صورتحال غیر مستحکم یا خطرناک سمجھی جائے۔
تاحال اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ حکام کے اہلِ خانہ کب واپس بلائے جائیں گے اور آیا وہ مستقل طور پر بھارت منتقل ہوں گے یا نہیں۔
ڈھاکہ میں ہائی کمیشن کے علاوہ بھارت کے سفارتی دفاتر چٹاگانگ، کھلنا، راجشاہی اور سیلہٹ میں بھی قائم ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: مسلح افراد کا حملہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا افسر شہید 4 اہلکار زخمی
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات 2024 میں محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے قیام اور شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔
حالیہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دونوں ممالک نے اپنے سفارتی مشنز کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔
12 دسمبر کو طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
بھارت نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے سختی سے نمٹے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وہ اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروباروں پر شدت پسند عناصر کی جانب سے بار بار حملوں کا ایک پریشان کن سلسلہ دیکھ رہے ہیں۔
نئی دہلی نے بنگلہ دیش کے اس ’تشویشناک رجحان‘ کی بھی نشاندہی کی جس میں ایسے واقعات کو ذاتی دشمنیوں، سیاسی اختلافات یا دیگر وجوہات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
جیسوال کے مطابق، اس طرح کی بے توجہی مجرموں کو مزید شہ دیتی ہے اور اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس مسئلے کو پہلے بھی متعدد بار اٹھا چکا ہے، تاہم اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروباروں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت ڈھاکہ محمد یونس نان فیملی پوسٹنگ ہائی کمیشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت ڈھاکہ محمد یونس نان فیملی پوسٹنگ ہائی کمیشن بنگلہ دیش میں کے اہل گیا ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔