عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی جسے شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے قبول کر لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی جسے شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے قبول کر لیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔بحرینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امید ہے بورڈ آف پیس اپنے مقاصد حاصل کرے گا، جن میں تعاون کا فروغ، استحکام کی حمایت، اور سب کے لیے ترقی و خوشحالی کا حصول شامل ہے۔ دوسری جانب عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ آف پیس کی ممرشپ فیس 1 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چارٹر کے مطابق، رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہو گی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہو گی۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی شمولیت کی دعوت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں شمولیت کی دعوت بورڈ آف پیس میں کے مطابق قبول کر کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔