سانحہ گاؤکدل: وہ دن جب پرامن کشمیری مظاہرین پر گولیاں چلیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
21 جنوری 1990 کو مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والا سانحہ گاؤکدل پل کشمیری تاریخ کے المناک اور خونی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وادیٔ کشمیر میں 1989 کے اواخر سے ایک وسیع مگر پُرامن عوامی تحریک جاری تھی۔
رپورٹس کے مطابق 19 جنوری 1990 کے بعد وادی میں انتظامی ڈھانچے کو سخت سکیورٹی اقدامات میں بدل دیا گیا، کرفیو نافذ ہوا اور شہری آزادیوں پر شدید پابندیاں عائد کی گئیں۔ انہی حالات کے تناظر میں 21 جنوری کو سری نگر میں ہزاروں نہتے شہری پُرامن جلوس کی صورت میں سڑکوں پر نکلے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین غیر مسلح تھے اور ان کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں بلکہ سیاسی اور شہری مطالبات تھے۔ جلوس اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب جا رہا تھا اور اسے گاؤکدل پل سے گزرنا تھا، جہاں بھارتی فورسز، بالخصوص سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) نے جلوس کو روک لیا۔
بیانات کے مطابق بغیر کسی واضح وارننگ کے فائرنگ شروع کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پل، اطراف کی سڑکیں اور دریائے جہلم کے کنارے زخمیوں اور لاشوں سے بھر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار میں 50 سے 60 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 100 سے زائد تھی۔ اس واقعے میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں بڑی تعداد گولیوں سے شدید زخمی ہونے والوں کی تھی۔
تین دہائیاں گزرنے کے باوجود سانحہ گاؤکدل پر نہ کوئی آزادانہ تحقیقات ہو سکیں اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں آج تک انصاف نہیں ملا۔ یہ واقعہ کشمیری عوام کے لیے ایک علامتی سوال بن چکا ہے جو ہر سال 21 جنوری کو دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔