Express News:
2026-07-24@04:18:41 GMT

کراچی میں ایک ہی دن میں آتشزدگی کے 3 واقعات

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے تین واقعات پیش آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شادمان ٹاؤن ، صدر ریگل اور سبزی منڈی میں آتشزدگی کے واقعات پر فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

نارتھ ناظم آباد، سخی حسن کے قریب قائم کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ شادمان ٹاؤن کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں لگی تھی، پریڈی کے علاقے صدر ریگل سولر مارکیٹ والی گلی میں قائم 7 منزلہ رہائشی عمارت کے فلیٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔

مزید پڑھیں

گل پلازہ آتشزدگی؛ کھلونوں کے امپورٹر کا 7کروڑ نقدی آگ کی نذر ہو جانے کا دعویٰ

کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے ہلاکت خیز واقعات پر ایک نظر!

گل پلازہ آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، کراچی پولیس چیف

ایس ایچ او پریڈی کے مطابق آگ چھٹی منزل کے فلیٹ میں بنے کچن کے پردے میں لگی تھی جسے اہلخانہ اور مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو پا کر بجھا دیا جبکہ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی گل پلازہ پر موجود فائر بریگیڈ کی 2 گاڑیوں کو روانہ کیا گیا تھا جس نے آگ پر قابو پالیا۔

سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کےعلاقے نئی سبزی منڈی میں آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کا عملہ ، پولیس اور ریسکیو رضا کار موقع پر پہنچ گئے۔

پولیس کے مطابق آگ سبزی منڈی میں واقع شیڈ میں لگی تھی جسے فائر فائٹرز نے ایک فائر ٹینڈر کی مدد سے بجھا دیا ، آتشزدگی کے تینوں واقعات میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم فوری فوری پر آگ لگنے کی وجہ اور نقصان کی مالیت کا تعین نہیں ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ ا تشزدگی کے کے مطابق

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف