کراچی میں ایک ہی دن میں آتشزدگی کے 3 واقعات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے تین واقعات پیش آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شادمان ٹاؤن ، صدر ریگل اور سبزی منڈی میں آتشزدگی کے واقعات پر فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نارتھ ناظم آباد، سخی حسن کے قریب قائم کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ شادمان ٹاؤن کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں لگی تھی، پریڈی کے علاقے صدر ریگل سولر مارکیٹ والی گلی میں قائم 7 منزلہ رہائشی عمارت کے فلیٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔
مزید پڑھیںگل پلازہ آتشزدگی؛ کھلونوں کے امپورٹر کا 7کروڑ نقدی آگ کی نذر ہو جانے کا دعویٰ
کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے ہلاکت خیز واقعات پر ایک نظر!
گل پلازہ آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، کراچی پولیس چیف
ایس ایچ او پریڈی کے مطابق آگ چھٹی منزل کے فلیٹ میں بنے کچن کے پردے میں لگی تھی جسے اہلخانہ اور مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو پا کر بجھا دیا جبکہ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی گل پلازہ پر موجود فائر بریگیڈ کی 2 گاڑیوں کو روانہ کیا گیا تھا جس نے آگ پر قابو پالیا۔
سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کےعلاقے نئی سبزی منڈی میں آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کا عملہ ، پولیس اور ریسکیو رضا کار موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس کے مطابق آگ سبزی منڈی میں واقع شیڈ میں لگی تھی جسے فائر فائٹرز نے ایک فائر ٹینڈر کی مدد سے بجھا دیا ، آتشزدگی کے تینوں واقعات میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم فوری فوری پر آگ لگنے کی وجہ اور نقصان کی مالیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ ا تشزدگی کے کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔