data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائنس دانوں کی جانب سے سامنے آنے والے تازہ تجزیے نے روزمرہ استعمال میں آنے والی ایک عام عادت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پلاسٹک کے برتنوں اور کپوں میں رکھا جانے والا گرم کھانا یا مشروب، خاص طور پر گرم کافی انسانی جسم میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کے داخل ہونے کا ایک بڑا سبب بن سکتا ہے۔

ماضی میں کی جانے والی متعدد سائنسی تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جب گرم کافی پلاسٹک کے کپ میں ڈالی جاتی ہے تو کولڈ کافی کے مقابلے میں ہزاروں کی تعداد میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات خارج ہو سکتے ہیں۔ یہ باریک ذرات نہ صرف مشروب میں شامل ہو جاتے ہیں بلکہ غیر محسوس طریقے سے انسانی جسم میں داخل بھی ہو سکتے ہیں۔

ماہرین صحت خبردار کر رہے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک کا مسلسل استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان خطرات میں ہارمونز کا عدم توازن، ذیابیطس، سانس کے مسائل اور تولیدی نظام سے متعلق پیچیدگیاں شامل بتائی جا رہی ہیں۔

بعض مطالعات میں ان ذرات کو مختلف اقسام کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بھی جوڑا گیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے غیر ارادی استعمال کی ایک بڑی وجہ ایک بار استعمال ہونے والے یعنی ڈسپوزایبل پلاسٹک کپ اور برتن ہیں، جو روزمرہ زندگی میں عام ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر دفاتر، کیفے اور فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس میں گرم مشروبات کے لیے پلاسٹک کپ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

عالمی سطح پر ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 5 سو ارب ڈسپوزایبل پلاسٹک کپ استعمال کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گرم اشیا کے ساتھ پلاسٹک کا رابطہ کیمیائی عمل کو تیز کر دیتا ہے، جس سے مائیکرو پلاسٹک کے ذرات زیادہ مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ گرم مشروبات کے لیے شیشے، اسٹیل یا مٹی کے برتن استعمال کیے جائیں۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی نہ صرف صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ