سانحہ گل پلازہ: متصل عمارت ’رمپا پلازہ‘ بھی خطرناک قرار، نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد متصل عمارت کو خطرناک قرار دے دیا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل واقع رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ اور دکان مالکان کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ رمپا پلازہ کے متعدد بنیادی ستون متاثر ہوئے، جس سے عمارت کی مجموعی ساخت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایس بی سی اے حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی آتشزدگی تھی، جس کے باعث صرف متاثرہ عمارت ہی نہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود ڈھانچوں کی مضبوطی بھی متاثر ہوئی۔ ابتدائی تکنیکی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رمپا پلازہ کے کچھ حصے کسی بھی وقت مزید نقصان یا حادثے کا سبب بن سکتے ہیں، اسی لیے خطرناک حصوں کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق رمپا پلازہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمارت کا جامع اسٹرکچرل آڈٹ کروائیں اور ایس بی سی اے سے باضابطہ اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی سرگرمی انجام نہ دی جائے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر عمارت میں کسی غیر قانونی یا غیر اجازت شدہ سرگرمی کی نشاندہی ہوئی تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں سیلنگ اور جرمانے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کی شب گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور عمارت کی تباہی سے اب تک 28 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 74 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ قبل ازیں مجموعی طور پر 81 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور مختلف ادارے متاثرہ خاندانوں کی معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہر میں موجود پرانی اور کمرشل عمارتوں کا فوری اسٹرکچرل آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں رمپا پلازہ
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔