یو ایس ایف اور جاز کے درمیان براڈ بینڈ منصوبوں کے معاہدے، 9 اضلاع میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ملک کے پسماندہ اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے فروغ کے لیے وزارتِ آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ٹیلی کام کمپنی جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے طے پا گئے۔ معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب کے دوران یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر چوہدری مدثر نوید اور جاز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عامر ابراہیم نے براڈ بینڈ سروسز سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ آج کی تقریب میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے 9 اضلاع میں براڈ بینڈ سروسز کے چار منصوبوں کا باضابطہ اجرا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کے تحت بھاولنگر، اٹک، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد اور شیخوپورہ کے اضلاع میں براڈ بینڈ سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ چنیوٹ اور ایبٹ آباد میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ اور وائس کمیونیکیشن سروسز کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ان منصوبوں کے نتیجے میں 203 دیہاتوں اور گاؤں کے 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے گی، جس سے تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ براڈ بینڈ سروسز کے یہ تمام منصوبے 6 سے 18 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیے جائیں گے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے مزید بتایا کہ ملک میں کنیکٹیویٹی کے مسائل کے حل کے لیے اسپیکٹرم میں اضافے اور فائیو جی سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو ایس ایف کے تحت اربوں روپے کی لاگت سے براڈ بینڈ اور آپٹیکل فائبر کیبل کے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔