نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت قبول کر لی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
بدھ کو جاری بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ اسرائیلی وزیراعظم اس عالمی فورم کے رکن کی حیثیت سے شامل ہوں گے۔
بیان کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ عالمی رہنماؤں پر مشتمل ہوگا اور اس کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل اور امن سے متعلق امور پر کردار ادا کرنا ہے۔
مزید پڑھیںجنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام: اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلا کا حکم
یو اے ای کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی
غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، ٹرمپ
یہ بورڈ ابتدا میں جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تجویز کیا گیا تھا، تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس کے چارٹر میں اس کے دائرہ کار کو صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس بورڈ میں مستقل رکنیت کے لیے ممالک یا رہنماؤں کو ایک ارب ڈالر تک کی مالی شراکت بھی کرنا ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس فورم کو عالمی امن کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف خطوں کے رہنماؤں کو شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔