اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر پالیسیوں کے مثبت نتائج نہیں نکل سکتے: پیاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ پیداواری لاگت بشمول ڈسکائونٹ ریٹ ، بجلی و گیس کے نرخ، ٹیکس اور ریفنڈز کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر جیسے مسائل پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی مارکیٹوںمیں علاقائی حریف ممالک سے مقابلے کی دوڑ سے باہر کر رہے ہیں ،ملک میں رائج موجودہ میکرو اکنامک پالیسیاں 150 سے زائد ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش اور طویل عرصے سے پاکستان میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا ء کی ذمہ دار ہیں۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ مسائل کے حل اور نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے اصلاحات نا گزیر ہیں لیکن پالیسی ساز جس حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں اس کے نتائج سامنے نہیں آرہے جس کی بنیادی وجہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر پالیسیوں کی تشکیل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 جولائی تا جونکے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2,489.
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی کے حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کئے جارہے ہیں انہیں کائونٹر چیک کرنے کی ضرورت ہے ،تجویز ہے کہ جب معیشت کی ترقی کے حوالے سے اعدادوشمار مرتب کئے جائیں تو اس میں نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ رکھا جائے تاکہ اصل حقائق حکومت کے علم میں آتے رہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کو سخت اور فوری مانیٹری و مالیاتی پالیسیوں کی شرائط کو بتدریج ختم کرنے کیلئے قائل کرے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ نجی شعبے کو اہمیت دی جائے اور پالیسیوں کی تشکیل میں ان کی رائے اور تجاویز کو اہمیت دی جائے تاکہ مثبت نتائج برآمد ہو سکیں۔
کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری نے کہا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔