ویب ڈیسک:پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ پیداواری لاگت بشمول ڈسکائونٹ ریٹ ، بجلی و گیس کے نرخ، ٹیکس اور ریفنڈز کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر جیسے مسائل پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی مارکیٹوںمیں علاقائی حریف ممالک سے مقابلے کی دوڑ سے باہر کر رہے ہیں ،ملک میں رائج موجودہ میکرو اکنامک پالیسیاں 150 سے زائد ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش اور طویل عرصے سے پاکستان میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا ء کی ذمہ دار ہیں۔

منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے

 اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ مسائل کے حل اور نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے اصلاحات نا گزیر ہیں لیکن پالیسی ساز جس حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں اس کے نتائج سامنے نہیں آرہے جس کی بنیادی وجہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر پالیسیوں کی تشکیل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 جولائی تا جونکے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2,489.

7 ملین ڈالر رہی جبکہ روایتی حریف ملک نے 81 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ،جولائی تا نومبر 2024 کے دوران یہ سرمایہ کاری 1,242.4 ملین ڈالر تھی جو جولائی تا نومبر 2025 میں کم ہو کر 927.4 ملین ڈالر رہ گئی جو کہ 25 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے، سرمایہ کاری کے بغیر اورایسے حالات میں ہماری معیشت کیسے ترقی حاصل کر سکتی ہے؟ ۔

الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال

 انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی کے حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کئے جارہے ہیں انہیں کائونٹر چیک کرنے کی ضرورت ہے ،تجویز ہے کہ جب معیشت کی ترقی کے حوالے سے اعدادوشمار مرتب کئے جائیں تو اس میں نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ رکھا جائے تاکہ اصل حقائق حکومت کے علم میں آتے رہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کو سخت اور فوری مانیٹری و مالیاتی پالیسیوں کی شرائط کو بتدریج ختم کرنے کیلئے قائل کرے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ نجی شعبے کو اہمیت دی جائے اور پالیسیوں کی تشکیل میں ان کی رائے اور تجاویز کو اہمیت دی جائے تاکہ مثبت نتائج برآمد ہو سکیں۔

کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری نے کہا

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان