گل پلازہ سانحہ: جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کو لگنے والی آگ کے نتیجے میں دم گھٹنے اور جھلسنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں مزید دو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے ملبے سے کل 2 لاشوں کے حصے ملے ہیں جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے تاکہ شناخت اور قانونی کارروائی کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سانحہ کے شکار افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ اب بھی موجود ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ جب تک ملبے سے تمام لاپتا افراد کی بازیابی مکمل نہیں ہوتی، اس وقت تک عمارت کو مکمل طور پر گرایا نہیں جائے گا۔
جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے دوران رمپا پلازہ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور متعلقہ محکمے ایس بی سی اے سے عمارت کے نقشے اور دیگر ضروری دستاویزات طلب کر چکے ہیں۔
جاوید نبی کھوسو نے مزید کہا کہ ریسکیو ٹیمیں دن رات ایک کرکے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہیں اور عمارت کی مکمل ڈیمولیشن کا فیصلہ تب کیا جائے گا جب تمام لاپتا افراد کی شناخت ہو جائے اور ملبہ صاف ہو جائے۔
مقامی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، شہر کے مرکز میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ شہریوں کے لیے سنجیدہ خطرے کی نشاندہی کرتا ہے اور اب بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے اور مزید جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاپتا افراد کی گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔