26 سالہ جرمن ڈاکٹر نے منڈی بہاءالدین پہنچ کر پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
منڈی بہاالدین:
26 سالہ جرمن ڈاکٹر پاکستانی نوجوان کی محبت میں منڈی بہاءالدین پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق منڈی بہاءالدین کے گاؤں دیفار سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان محمد اکمل نے 26 سالہ جرمن ڈاکٹر سلما کو پاکستان بلاکر محبت کی شادی کرلی۔
یوٹیوب چینل ایم وائی کے نیوز ٹی وی کو انٹرویو میں محمد اکمل نے بتایا کہ انکی بات چیت آن لائن گیم روبلوکس سے شروع ہوئی اور تقریباً پانچ ماہ تک وہ ایک دوسرے سے آن لائن بات چیت کرتے رہے جس کے بعد سلما نے پاکستان آ کر ان سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔
اکمل نے بتایا کہ پہلے دن ہی انہوں نے سلما کو پروپوز کردیا تھا اور کچھ دنوں کی رکاوٹ کے بعد وہ پاکستان پہنچ گئیں۔ سلما نے بتایا کہ پاکستان آ کر گاؤں کی زندگی اور روزمرہ کے کام دیکھ کر انہیں ابتدا میں حیرت ہوئی مگر وہ خوش تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہیں۔
View this post on Instagramسلما نے بتایا کہ گاؤں کے کام جیسے کپڑے اور برتن دھونا اور روٹی بنانا ایک نیا تجربہ تھا اگرچہ پہلے دنوں میں مشکل محسوس ہوئی مگر انہوں نے اسے سیکھا۔
اکمل نے بتایا کہ شادی میں خاندان کی مکمل مدد حاصل تھی اور تقریباً 45 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جس میں سفری اخراجات اور شادی کی تقریب شامل تھی۔
سلما کے پاس دو پاسپورٹ ہیں، جرمن اور بوسنیائی، اور وہ پاکستان میں اپنی زندگی اکمل کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں۔
سلما نے مزید بتایا کہ وہ پنجابی اور اردو بھی سیکھ رہی ہیں تاکہ کمیونیکیشن میں آسانی ہو۔ اکمل نے کہا کہ شادی کے بعد زندگی خوشگوار ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے رہ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے جوڑے کی سادگی، خلوص اور محبت کو سراہا۔ اس شادی کو محبت، ثقافتوں کے امتزاج اور آن لائن دوستی کی کامیاب کہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ اکمل نے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔