سندھ طاس معاہدہ: اقوامِ متحدہ کی ڈیڈ لائن ختم، بھارت کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت سے وضاحت طلب کرنے کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوئے 34 دن گزر چکے ہیں، تاہم نئی دہلی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق بھارت سے کہا گیا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنے حالیہ اقدامات پر 16 دسمبر 2026 تک وضاحت پیش کرے، مگر ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بھارتی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
اقوامِ متحدہ اب بھی بھارت کے جواب کی منتظر ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق متعدد سوالات بدستور موجود ہیں۔ بین الاقوامی حلقوں میں بھارت کی مسلسل خاموشی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے وضاحت نہ آنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ رویہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے گریز کے تاثر کو بھی تقویت دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔