پہلا روزہ کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سٹی 42:پاکستان میں ماہ شعبان کا چاند نظر آنے کے بعد رمضان کے آغاز کی متوقع تاریخ سامنے آگئی۔
پاکستان میں ماہ شعبان کا چاند نظر آ گیا ہے، جس کے ساتھ آج (21 جنوری) کو اسلامی مہینے کا پہلا دن ہے ، رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے، جسے روحانی عکاسی، روزہ اور عبادت کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان اس دوران سحر سے مغرب تک روزہ رکھتے ہیں اور کھانے پینے اور دنیاوی خواہشات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہ مہینہ خود پر قابو پانے، صدقہ کرنے اور ایمان مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اختتام عیدالفطر کی خوشیوں پر ہوتا ہے۔ رمضان کا انتظار عموما رجب سے ہی شروع ہوجاتا ہے ۔
لاہور میں اس وقت پتنگ بازی پر پابندی ہے؛ تمام محکمے اور ضلعی انتظامیہ الرٹ
رمضان 2026 کی متوقع تاریخیں
اگر شعبان 29 دن کا ہوگا تو رمضان کا پہلا دن 19 فروری 2026 ہوگا۔
اگر شعبان 30 دن کا ہوگا تو رمضان کا آغاز 20 فروری 2026 ہوگا۔
زرتاج گل کی والدہ انتقال کر گئیں
حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی، جو شعبان کے اختتام پر اجلاس میں چاند کے مشاہدات اور گواہوں کی شہادت کی بنیاد پر تاریخ کی تصدیق کرے گی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے 2026 کے سرکاری تعطیلات کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس کے مطابق عیدالفطر کی تعطیلات: 21، 22 اور 23 مارچ کو ہوں گی۔
چوزے پر ٹیکس ؛انڈے کو ترجیح،مارکیٹ میں مرغی کی قلت ہوجائےگی:چیئرمین پولٹری ایسوسی ایشن
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چاند تاریخ چاند چاند تاریخ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔