بلدیاتی الیکشن ، صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بلدیاتی الیکشن ، صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر جواب طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التوا کے خلاف درخواست پر وفاق اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا جبکہ عدالت نے اسی نوعیت کی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ درخواست کو یکجا کر دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار انعام الرحمن کمبوہ اپنے وکیل اشفاق احمد کھرل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل نے دلائل دیئے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا صدارتی آرڈیننس چیلنچ کیا ہے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، شیڈول کا اعلان کیا گیا کاغذات بھی جمع ہوئے، تمام ریکوائرمنٹ پوری ہونے کے باوجود الیکشن ملتوی کر دیئے گئے۔درخواستگزار وکیل نے کہا کہ اسلام آباد میں چوتھی مرتبہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کیا گیا ہے، عدالت صدراتی آرڈیننس کالعدم قرار دے کر اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دے۔ عدالت نے وفاق اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،پانی کے مسائل کا جائزہ چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،پانی کے مسائل کا جائزہ کے پی ، اسٹریٹجک ذخائر سے ایک لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ریلیز شروع غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، ٹرمپ قومی اسمبلی ،ن لیگ اور پیپلز پارٹی پھر آمنے سامنے،شدید تنقید سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، اموات بڑھنے کا اندیشہ اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو انکا ملک مکمل تباہ کردیا جائیگا: ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلدیاتی الیکشن صدارتی آرڈیننس درخواست پر اسلام آباد جواب طلب
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔