اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواست پر وفاق اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا جبکہ عدالت نے اسی نوعیت کی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ درخواست کو یکجا کر دیا۔
 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار انعام الرحمن کمبوہ اپنے وکیل اشفاق احمد کھرل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بارش اور برفباری، فلیش فلڈ کا خطرہ

وکیل نے دلائل دیئے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا صدارتی آرڈیننس چیلنچ کیا ہے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، شیڈول کا اعلان کیا گیا کاغذات بھی جمع ہوئے، تمام ریکوائرمنٹ پوری ہونے کے باوجود الیکشن ملتوی کر دیئے گئے۔

درخواستگزار وکیل نے کہا کہ اسلام آباد میں چوتھی مرتبہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کیا گیا ہے، عدالت صدراتی آرڈیننس کالعدم قرار دے کر اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دے۔

عدالت نے وفاق اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔
 

وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چودھری سے مفتی منیب الرحمن کی اہم ملاقات

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اسلام آباد

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے