Islam Times:
2026-06-03@06:00:43 GMT

ورلڈ آرڈر کا ڈس آرڈر

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

ورلڈ آرڈر کا ڈس آرڈر

اسلام ٹائمز: چین، روس، برازیل، ارجنٹائنا، ہندوستان، عرب ریاستیں، یورپ سب ٹرمپ کی پالیسیوں اور اپنے مفادات کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس مشکل دور سے وہی سرخرو ہو کر نکلے گا جو قومی اتحاد اور خودانحصاری کو یقینی بنائے گا۔ کسی بھی بیرونی طاقت پر انحصار، غیر ضروری چھیڑ چھاڑ، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے امور سے اجتناب ضروری ہے۔ تحریر: سید اسد عباس

دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہم فکری طور پر شائد تاحال پچھلی دہائی یا اس پہلے کے زمانے  میں جی رہے ہیں، جہاں اقوام متحدہ عالمی امن کی ضامن تھی، انسانی حقوق، جانوروں کے حقوق، مہاجرین کے حقوق ان کی آبادکاری، صحت کے مسائل، جارح ریاستوں پر پابندیاں یہ سب کام اقوام متحدہ انجام دے رہی تھی اور کسی حد تک اقوام کو اس پر اعتماد بھی تھا۔ اس عالمی ادارے نے اگرچہ مسئلہ کشمیر و مسئلہ فلسطین میں کوئی خاص پیشرفت نہ کی تاہم بہت سے دیگر امور میں اس کے کام لائق تعریف تھے۔ اب یہ ادارہ او آئی سی کی مانند ایک رسمی ادارہ بن چکا ہے جس کے اجلاس تو منعقد ہوتے ہیں تاہم ان کی حیثیت اخلاقی باتوں سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ امریکہ جو اقوام متحدہ کے متعدد پراجیکٹس کا بڑا ڈونر تھا، ٹرمپ کے آنے کے بعد ان پراجیکٹس سے ہاتھ اٹھا چکا ہے۔ چین نے ماحولیات اور صحت کے شعبے میں خاصی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کی وجہ سے امریکہ کا گلہ ہے کہ چین اس ادارے کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

ظاہر ہے جو سرمایہ لگائے گا وہ چاہے گا کہ اس کی پالیساں نافذ ہوں، جو اس ادارے کی بڑی خامیوں میں سے ایک ہے۔ چھوٹے ممالک جو اعتماد کی وجہ سے اس ادارے کا حصہ بنے تھے ان کے لیے اب اس ادارے کی نشستیں ایک رسم کی حیثیت اختیار ہو چکی ہیں۔ جب دنیا کے اہم سیاسی، معاشی، اقتصادی اور امن سے متعلق فیصلے کہیں اور ہونے ہیں تو پھر اس ادارے کی بھلا کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ غزہ پر اسرائیل نے گذشتہ تین برسوں سے چڑھائی کر رکھی ہے اقوام متحدہ مذمتی بیانات کے سوا کیا کر سکی؟ وینزویلا کا صدر اغواء کرلیا گیا اقوام متحدہ نے کیا کیا؟ سوڈان میں خانہ جنگی ہے اقوام متحدہ نے اس قتل و غارت کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ یوکرائن میں تقریبا تین برسوں سے جنگ جاری ہے اقوام متحدہ کہاں ہے؟ کشمیر کو بھارت نے غیر قانونی طور پر اپنی ریاست کا حصہ قرار دے دیا اقوام متحدہ نے اس واقعہ پر کیا اقدام کیا؟ اسی طرح یمن میں خانہ جنگی کی فضا میں اقوام متحدہ کا کیا کردار ہے؟ صومالیہ دو ریاستوں میں منقسم ہو چکا ہے اقوام متحدہ کہاں ہے؟

بیوروکریسی کا ایک اکٹھ ہے جو او آئی سی کی مانند فائلوں کا پیٹ بھرنے اور رپورٹیں مرتب کرنے کو ہی اپنی ذمہ داری جانتا ہے۔ گذشتہ برس اور حالیہ برس کے آغاز میں ہونے والے واقعات نے تو اس ادارے کو بالکل غیر متعلقہ ادارہ بنا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ سے قبل کے دور کی جانب لوٹ رہی ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ العمل تھا۔ زور آور اپنی طاقت کے بل بوتے پر جہاں چاہے منہ مارتا پھرے، کمزور مجبور ہوں کہ اپنی بقاء کے لیے یا تو زور آور کی چھتری تلے چھپ جائیں یا پھر کسی دوسرے نسبتا کم زور آور کی پناہ میں چلے جائیں۔ دنیا میں محسوس ہونے والی یہ تبدیلی فقط ایک شخص (ٹرمپ) کی سوچ کی وجہ سے ہے یا اس کے پس پردہ ایک ریاست ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہے۔ ظاہراً ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ دنیا کے امن کو تہ و بالا کر رہا ہے اور یہ چلا جائے گا تو شائد دنیا واپس اپنی پہلی حالت کی لوٹ جائے۔ میری نظر میں اس شخص کے ہونے نہ ہونے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی۔ گذشتہ دور حکومت میں بائیڈن نے اگرچہ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت اور ماحولیات کے فنڈز بحال کر دیئے تھے تاہم برجام یعنی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو بحال نہ کرسکا۔ اسی طرح عالمی امریکی پالیسیوں میں کوئی کلیدی تبدیلی نہ آئی۔ میری نظر میں تو ٹرمپ اور بائڈن امریکہ کے ہلکے اور سخت ہاتھ کی علامتیں ہیں۔ کبھی ہلکا ہاتھ اور کبھی سخت ہاتھ بنیادی ہدف امریکی تسلط کو یقینی بنانا ہے۔ یعنی دونوں ریاستی پالیسی سازوں کے حربے ہیں۔

بہرحال ٹرپ صاحب نے ایک ریاست کا منتخب صدر بیوی سمیت اٹھا لیا ہے، لاطینی امریکہ کے باقی سربراہوں کو بھی برے نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، مشرق وسطی میں غزہ امن منصوبہ کے نام سے ایک نئی بساط بچھا چکا ہے۔ اب غزہ کا فیصلہ وہاں کے باسی نہیں ٹرمپ کا بنایا ہوا بورڈ فار پیس کرے گا جس کے سربراہ ما بدولت خود ہیں۔ وہ فورس جو ٹرمپ صاحب غزہ میں امن کے لیے تشکیل دے رہے ہیں اس کے سربراہ بھی امریکی جرنیل ہوں گے۔ یہ عسکری قبضہ نہیں بلکہ غزہ پر سیاسی اور عملی قبضہ ہے۔ فی الحال دنیا میں کوئی بھی دانشور، جوتشی اور لکھاری نہیں بتا سکتا کہ غزہ کے باسیوں کے مستقبل کے حوالے سے ٹرمپ اور اسرائیل کا کیا ارادہ ہے۔ صومالی لینڈ میں فلسطینیوں کی آبادکاری ، فلسطینیوں کو صحرائے سینا کی جانب دھکیلنا سب اندازے ہیں۔ ایران میں ہونے والے گذشتہ ہفتوں کے مظاہرے، اچانک ان مظاہروں کا پر تشدد ہونا اور ہزاروں افراد کا جان سے جانا اس میں امریکہ اور اسرائیل کا براہ راست کردار ہے، جس کا عندیہ سپریم لیڈر ایران نے بھی دیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک کے سفیروں کو بلا کر سب شواہد دکھائے کہ کیسے بیرونی عوامل دہشت گردی کر رہے ہیں۔ یورپینز اگرچہ امریکہ کے بڑے اتحادی ہیں تاہم اس وقت وہ بھی امریکی دھونس کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو نیٹو اتحاد اب تک تاریخ کے ردی دان میں پہنچ چکا ہوتا۔ امریکہ گرین لینڈ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کرچکا ہے۔ ورلڈ آرڈر اس وقت ڈس آرڈر کا شکار ہوچکا ہے۔ یہ انتہائی بے چینی کا زمانہ ہے یقینا چھوٹی طاقتیں ایسے وقت میں  اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر ریاست پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ چین، روس، برازیل، ارجنٹائنا، ہندوستان، عرب ریاستیں، یورپ سب ٹرمپ کی پالیسیوں اور اپنے مفادات کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس مشکل دور سے وہی سرخرو ہو کر نکلے گا جو قومی اتحاد اور خودانحصاری کو یقینی بنائے گا۔ کسی بھی بیرونی طاقت پر انحصار، غیر ضروری چھیڑ چھاڑ، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے امور سے اجتناب ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے اقوام متحدہ کی پالیسیوں اس ادارے کی قومی اتحاد چکا ہے کے لیے

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت