مجھے قتل کرنے کی کوشش بھی کی تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا؛ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
آیت اللہ خامنہ ای کی حفاظت کے لیے حوالے سخت بیان کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید اور غیر معمولی دھمکی سے دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے مجھے مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس پر میں نے سیکیورٹی فورسز کو سخت ہدایات دے رکھی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول واضح احکامات دے دیئے ہیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو پورے ایران کو اڑا دیا جائے۔ کرۂ ارض سے ایران کا نقشہ بھی مٹا دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ایران کی جانب سے پہلی بار اس نوعیت کی دھمکیاں سامنے آئیں تھیں تو بائیڈن انتظامیہ کو سخت ردعمل دینا چاہیے تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر یہ دھمکی کسی عام شہری کو بھی دی جاتی تو میں اس پر بھی بھرپور جواب دیتا لیکن یہ تو کھلم کھلا امریکی صدر کو دی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو سخت وارننگ دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو پھانسی دی تو بھرپور حملہ کیا جائے گا۔
تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر سیکڑوں سزائے موت منسوخ کرنے کے اقدام کو سراہا بھی تھا۔
ایران میں 28 دسمبر سے مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں اب تک 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔
علاوہ ازیں 26 ہزار سے زائد گرفتار مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے سیکڑوں کو پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم عمل درآمد نہیں ہوا۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں جس کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہیں اور اس کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔