محبوبہ مفتی نے کشمیری صحافیوں کو پولیس اسٹیشن میں طلب کئے جانے کی مذمت کی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کشمیری پنڈتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی صدر نے کہا کہ کشمیر کشمیری پنڈتوں کے بغیر نامکمل ہے اور وادی کے عوام ان کی باعزت اور محفوظ واپسی کے منتظر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں کے گاندھی نگر میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سیاسی، سماجی اور جمہوری معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے سرینگر میں صحافیوں کو پولیس اسٹیشنوں میں طلب کئے جانے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ آزادی اظہار اور صحافت پر دباؤ کسی بھی جمہوری نظام کے لئے خطرناک ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے اور صحافیوں کے حق میں واضح موقف اختیار کریں گے، تاہم ان کی جانب سے خاموشی مایوس کن ہے۔ کشمیری پنڈتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی صدر نے کہا کہ کشمیر کشمیری پنڈتوں کے بغیر نامکمل ہے اور وادی کے عوام ان کی باعزت اور محفوظ واپسی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیری پنڈتوں کو اپنی واپسی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 16 جنوری کو کشمیری پنڈتوں کی جلاوطنی کو 36 برس مکمل ہوئے اور گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی واپسی اور بازآبادکاری کے مطالبے کو لے کر احتجاج بھی کیا۔ محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے دوران انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ اسمبلی میں نامزد اراکین کی بجائے کشمیری پنڈتوں کے لئے دو مخصوص نشستیں رکھی جائیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں واپس آنے دیں، انتخابات لڑنے دیں، وہ عوام سے ووٹ مانگیں گے اور مسلمان بھی انہیں ووٹ دیں گے۔ اسی طرح مختلف برادریاں ایک دوسرے کے قریب آئیں گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ممبئی یا کسی اور شہر میں بیٹھے کسی فرد کو اسمبلی میں نامزد کرنے سے کشمیری پنڈت برادری کو آخر کیا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات انتظامی سہولتوں سے متعلق ہے، نہ کہ ڈکسن پلان سے۔
انہوں نے نے کہا کہ ان کے والد مفتی محمد سعید نے پوری زندگی جموں و کشمیر کو متحد رکھنے کے لئے جدوجہد کی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ حکومت بھی بنائی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ڈی پی نہ تو پیر پنجال اور چناب ویلی کو کشمیر کے ساتھ ضم کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی کسی نئی تقسیم کی حامی ہے، بلکہ ان دونوں خطوں کو عوام کی سہولت کے لئے الگ ڈویژنل درجہ دینے کی حامی ہے۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے اس تجویز کو ڈکسن پلان سے جوڑنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا احترام کرتی ہیں اور انہیں جموں و کشمیر کا ایک قدآور رہنما مانتی ہیں، لیکن ان کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ڈاکٹر فاروق عبداللہ یہ بھول گئے ہیں کہ انہی کے والد شیخ محمد عبداللہ کو بھی اسی نوعیت کے ایک فارمولے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے وضاحت کی کہ ڈکسن پلان ستمبر 1950ء میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور آسٹریلیا کے سابق چیف جسٹس سر اوون ڈکسن نے پیش کیا تھا، جس کا مقصد بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر تنازع کا حل تلاش کرنا تھا، جبکہ ان کی موجودہ تجویز کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اننت ناگ پارلیمانی حلقہ بندی میں پونچھ اور راجوری کو شامل کر کے عملی طور پر ڈکسن پلان پر عمل درآمد کی ابتدا کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فاروق عبداللہ محبوبہ مفتی نے کشمیری پنڈتوں کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے پی ڈی پی کے لئے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔